وہ گورکن وہ غریب انساں یہ کہہ رہا تھا
کہ میرے ہاتھوں نے جب کسی کی بھی قبر کھودی تو میری آنکھوں نے خواب دیکھے
تو میری آنکھوں نے خواب دیکھے
اس ایک گھر کے
جو ایک مدت سے نا مکمل ہے اور چھت کو ترس رہاہے
وہ کہ رہا تھا
کچھ اور قبریں جو کھود کر میں کچھ اور لاشوں کو دفن کردوں تو گھر کی تعمیر ہو مکمل
جو خواب برسوں سے ہے ادھورا اسی کی تعبیر ہو مکمل
میں گورکن کا وہ ایک چھوٹا وہ اک ادھورا سا خواب سن کر چلا ہوں گھر کو
تو بے گھری کی سبھی حدوں سے گزر گیاہوں
یہ لگ رہاہے
میں گھر میں داخل نہیں ہوا ہوں
لحد میں اپنی اتر گیا ہوں
میں مر گیا ہوں
طارق قمر








