ہر گزرتا دن ہمارے رویّوں، فیصلوں اور غفلت کی قیمت چکا رہا ہے۔ کبھی زرخیز کھیتوں کی کمر ٹوٹتی ہے، کبھی ہوا سانس لینے کے قابل نہیں رہتی، اور کبھی شہر اس قدر بھر جاتے ہیں کہ انسان کا انسان سے دم گھٹنے لگتا ہے۔ مگر ہم ہیں کہ نہ سننے کو تیار ہیں، نہ ماننے کو۔ ہم نے آبادی کے مسئلے کو تقدیر کا حصہ سمجھ کر اس پر بات کرنا چھوڑ دیا ہے، گویا خود ساختہ تباہی کو ربّ کی رضا قرار دے دیا ہو۔ خاص طور پر گاؤں میں، جہاں ہر عمل ایک غیر لچکدار رسم بن چکا ہے، جہاں عقل گالی ہے اور تبدیلی جرم۔
بچے پیدا کرنا قدرتی عمل ہے، مگر ان کی پرورش، تعلیم، تربیت اور تحفظ انسان کی ذمہ داری ہے۔ ہم ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جو صرف ”پیدا“ کرنا جانتی ہے، پالنے، سنوارنے اور آگے بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ایک عام دیہی گھر میں سات سے آٹھ بچے ہونا فخر کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر جب وہی بچے بیمار ہوں، بھوکے ہوں، یا تعلیم سے محروم ہوں تو نظام کو کوسا جاتا ہے، قسمت کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ غربت نے گاؤں کے در و دیوار کو کمزور کیا ہے، مگر اس غربت کو نسل در نسل آگے بڑھانے میں خود وہاں کے رویّوں، ضد اور انکار کا بڑا کردار ہے۔
گاؤں کا نظام اس وقت بدبودار بن چکا ہے جو سانس لینا دشوار کر رہا ہے۔ رسم و رواج کو عقل پر فوقیت حاصل ہے۔ آج بھی بعض دیہی علاقوں میں یہ تصور ہے کہ اگر عورت بچے پیدا کرنے کے بجائے تعلیم کی بات کرے تو وہ بے راہ رو ہے۔ اگر کوئی لڑکا تعلیم کے بعد گاؤں کے دقیانوسی ماحول کو چھوڑنا چاہے، تو اُسے باغی سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہی گاؤں ہیں جہاں اسکول صرف کاغذوں میں موجود ہیں، جہاں اساتذہ کی تنخواہیں جاری ہوتی ہیں مگر وہ خود موجود نہیں ہوتے، اور جہاں والدین کی ساری امیدیں صرف اس بات پر مرکوز ہوتی ہیں کہ ان کا بیٹا کسی طرح شہر جا کر نوکری کرے اور پیسے بھیجے۔
دیہات کی صورتحال صرف پسماندگی نہیں، ایک سنگین المیہ ہے۔ وہاں نہ صحت کی سہولیات میسر ہیں، نہ آگاہی مہمات کی پہنچ۔ سب کچھ سنا ہے، مگر کچھ بدلا نہیں۔ عورت کو بچے پیدا کرنے کی مشین اور مرد کو ہر فیصلے کا مالک مانا گیا ہے۔ گھر کے ہر فرد کا حق مرد کے فیصلے سے مشروط ہے۔ اور یہی فیصلے ہیں جو نسلوں کی محرومی کا سبب بنتے ہیں۔ صحت، تعلیم، صاف پانی، شعور۔ ان تمام بنیادی انسانی حقوق کی غیر موجودگی کے باوجود وہاں کے نظام کو غلط کہنے کی جرات نہیں کی جا سکتی۔ یہ خاموشی صرف خوف نہیں، بلکہ غلامی کی بدترین شکل ہے۔
یہ تمام صورتحال صرف گاؤں کی حدود تک محدود نہیں رہی۔ آج ان ہی گاؤں سے آئے ہوئے لاکھوں خاندانوں نے شہروں کا رخ کیا ہے۔ شہر، جو پہلے ہی وسائل کی قلت کا شکار تھے، اب بے ہنگم بستیوں اور جھگیوں سے اَٹے پڑے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے پر بوجھ بڑھ چکا ہے۔ اسپتال، اسکول، سڑکیں، پانی، بجلی۔ ہر چیز گرتے ہوئے نظام کا نوحہ سنا رہی ہے۔ مگر گاؤں سے آنے والا ہجوم اپنے ساتھ وہی سوچ، وہی بے شعوری، وہی رسم پرستی لے کر آتا ہے، جس سے وہ خود بھاگا تھا۔ یوں شہر بھی ایک نیا گاؤں بننے لگتے ہیں، اور ترقی کا عمل ایک دائروں میں چکر کاٹنے لگتا ہے۔
جب تک ہم آبادی کو برکت کے بجائے ذمہ داری نہیں مانیں گے، یہ زمین ہم سے انتقام لیتی رہے گی۔ یہ زمین سب کچھ سہے گی، ہماری نا اہلی، ہماری غفلت، ہمارا تعصب، مگر یہ ہمیشہ خاموش نہیں رہے گی۔ قحط، بیماری، بے روزگاری، بدامنی۔ یہ سب اسی زمین کی چیخیں ہیں، جو ہمیں سُنائی نہیں دیتیں۔ اب بھی وقت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ آبادی پر قابو پانے کو محض ایک طبی مہم نہ سمجھیں، بلکہ ایک سماجی انقلاب کے طور پر دیکھیں۔ گاؤں کے فرسودہ نظام کو للکارنا ہو گا، عورت کو با اختیار بنانا ہو گا، تعلیم کو ترجیح دینی ہو گی، اور سب سے بڑھ کر، خود کو بدلنا ہو گا۔
ورنہ وہ وقت دور نہیں، جب ہم تعداد میں کروڑوں ہوں گے، مگر انسانیت میں صفر۔
یوسف صدیقی








