- Advertisement -

گیارھواں طاعون

ستیا پال آنند کی ایک اردو نظم

گیارھواں طاعون

میری آنکھوں کو اندھا کرنے کی خاطر
گرم سلائیاں لے کر آئے ہو، تو سُن لو
مصر کے دس طاعون تو بینائی سے عاری میری آنکھیں
صدیوں پہلے دیکھ چکی ہیں
دیکھ چکی ہیں
خاک و خون میں لتھڑے ابو الہول کے لشکر
جن کے لاشے پٹے پڑے تھے اہراموں کے چاروں جانب
ریگستانوں میں بہتی تھیں خون کی لہریں
نیل میں آگ کی جلتی لہریں
دس طاعون جو باری باری آئے تھے ۔ وہ
لاکھوں جانیں لے کر آخر لوٹ گئے تھے!

اپنی بینائی کھو کر میں
اندر کی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہا ہوں
دیکھ رہا ہوں
اک طاعون جو دور افق پر چڑھ آیا ہے
مردو خور پرندوں کی کالی آندھی سا

اس طاعون میں ایک مصر کیا
اس خطے کی ساری دھرتی ٹوٹ پھوٹ کر یوں بکھرے گی
تیل کے کوئیں، دریاؤں کے پاٹ، خلیجیں اور جزیرے
ابل ابل کر، باہر آ کر
باقی کی آدھی دنیا بھی لے ڈوبیں گے
مصر کے دس طاعون تو عشرِ عشیر نہیں تھے
اس طاعون کا، جس کو میری اندھی آنکھیں
اپنے کالے پر پھیلائے اڑتا آتا دیکھ رہی ہیں!

ستیا پال آنند
………………………………………………………………………………
کہا جاتا ہے کہ فرعون مصر نے ایک پیش بین holy seer کی آنکھیں،جس نے طاعونوں کے آنے کی پیشین گوئی کی تھی، گرم سلاخوں سے اندھی کروا دی تھیں۔ یہ نظم ٹیونیشیا، مصر، لیبیا اور دسرے عرب اور شمالی افریقہ کے ممالک میں 2011ء کی عوامی بغاوتوں سے دو سال پہلے لکھی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
تجدید قیصرکی ایک اردو غزل