آپ کا سلاماردو غزلیاتارشاد نیازیشعر و شاعری

خمار ایک وہم ہے , خمار کی طلب نہیں

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

خمار ایک وہم ہے , خمار کی طلب نہیں
مرے دماغ و دل کو اختیار کی طلب نہیں

میں نقش ہوں دھلا ہوا, کِھلا ہوا, کُھلا ہوا
مجھے نمود و نام کے , غبار کی طلب نہیں

پکاریئے شکستگاں , لہو کے اشتعال کو
ہمیں تو اب وصال کے دیار کی طلب نہیں

فنا مری حریف ہے , پرےہی رہ,سنبھل کے رہ
بدن, یہاں مجھے ترے حصار کی طلب نہیں

میں خاک پر پڑا ہوا ہوں انتظار کے سبب
پروں پہ اختیار ہے , پکار کی طلب نہیں

ارشاد نیازی

post bar salamurdu

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button