- Advertisement -

درد دل کو مرے نمو کرکے

غضنفر غضنی کی ایک اردو غزل

درد دل کو مرے نمو کرکے
دل کو میرے لہو لہو کرکے

کیا ملا تجھ کو بول یار مرے
درد سے مجھ کو روبرو کرکے

آئیے قہقے لگاتے ہیں
آج کی شب غموں کو چھو کرکے

زندگانی نماز کو بخشی
شاہ نے خون سے وضو کرکے

یہ اندھیرے مٹائیے غضنی
روشنی گھر میں چارسو کرکے

غضنفر غضنی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
عثمان اقبال خان کی ایک اردو غزل