رشید حسرت
بلوچستان کے ضلع کچھی کے پسماندہ گاؤں مِٹھڑی میں 16 جون 1962 کو جنم لینے والے عبدالرشید، جنہیں ادبی دنیا میں "رشید حسرت” کے نام سے جانا جاتا ہے، اردو شاعری کے اُن معتبر اور مخلص ناموں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی فکری دیانت، عروضی مہارت اور انسانی جذبات کے توازن سے اردو ادب میں ایک خاص پہچان قائم کی۔ غربت اور سماجی مشکلات کے باوجود، رشید حسرت نے نہ صرف اپنی تعلیم مکمل کی بلکہ ستائیس سال تک کالج سطح پر اردو ادب پڑھا کر کئی نسلوں کو فکری بصیرت بخشی۔ سبکدوشی کے بعد بھی بلا معاوضہ علمِ عروض کی تدریس ان کے عشقِ ادب اور جذبۂ خدمت کی روشن مثال ہے۔
رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔
ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔
-

سُکُوں دے کر یہ کیا مُشکل
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-

جو لفظ چِھین کے اِظہارکھینچ لیتی ہے
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-

اک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا
ایک اردو غزل از رشید حسرت
-

ذرا سی باپ مِرا کیا زمین چھوڑ گیا
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

ہم یہاں کے ہو لیئے
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

غم کی کِس شکل میں
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

ہم غرِیبی کی رِدا تان کے
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

عوام اب پوچھتے ہیں
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

وہ تجھ کو دے گا کھانا
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

وہ عزم مجھکو نہایت چٹان دے کے گیا
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

میں اپنے آپ کو تنہائیوں میں رکھتا ہوں
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

منتظر کوئی نہیں، کون وہاں بیٹھا ہے
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

پِھر اُس کے بعد تو تنہائِیوں
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

نا مکیں یہاں کے ہم
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

ہم نے اپنی تمہیں شاعری بھیج دی
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

ہے قبا کیسی ادھڑتی ہی
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

ہم اس کو دور بہت اس کی
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
-

ہم تو سجدے بھی کیا کرتے تھے
رشید حسرت کی ایک اردو غزل
