بشیر بدر
سید محمد بشیر، بشیر بدر کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی پیدائش 15 فروری 1935 میں، بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں ہوئی۔ان کی اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہوئی۔ ان کے دو فرزند نصرت بدر اور معصوم بدر اور ایک دختر ہیں ۔ اپنی تعلیم اور ملازمت کے دوران میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مقیم رہے۔ بعد میں میرٹ میں مقیم رہے پھر دہلی۔ دہلی میں گھر آگ حادثہ کا شکار ہوجانے کی وجہ سے شہر بھوپال منتقل ہو گئے۔ بشیر بدر بعد میں ڈیمنشیا کا شکار ہوئے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مشاعرہ کے سالوں کو بھول گئے تھے۔بشیر بدر کا انتقال 28 مئی 2026 کو 91 سال کی عمر میں بھوپال میں ہوا۔
-

اندھیرے راستوں میں یوں تری آنکھیں چمکتی ہیں
اردو غزل از بشیر بدر
-

بے وفا راستے بدلتے ہیں
اردو غزل از بشیر بدر
-

وہ مہکتی پلکوں کی اوٹ سے
اردو غزل از بشیر بدر
-

ناریل کے درختوں کی پاگل ہوا
اردو غزل از بشیر بدر
-

سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوجائے گا
اردو غزل از بشیر بدر
-

آگ لہرا کے چل رہے ہو اِسے آنچل کر دو
اردو غزل از بشیر بدر
-

راکھ اڑتی ہے اب ہلالوں پر
اردو غزل از بشیر بدر
-

یونہی بے سبب نہ پھرا کرو
اردو غزل از بشیر بدر
-

ہے عجیب شہر کی زندگی
اردو غزل از بشیر بدر
-

اگر یقیں نہیں آتا تو آزمائے مجھے
اردو غزل از بشیر بدر
-

سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں
اردو غزل از بشیر بدر
-

میرے دل کی راکھ کرید مت
اردو غزل از بشیر بدر
-

یہ کسک دل کی دل میں چبھی رہ گئی
اردو غزل از بشیر بدر
