انور شعور
انور شعور (پیدائش: 11 اپریل، 1943ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مشہور و معروف شاعر ہیں۔
انور شعور دور جدید کے معتبر شاعر ہیں۔ عام فہم اور سادہ شاعری کرنے کی وجہ سے ان کو سہلِ ممتنع کا شاعر سمجھا جانے لگا ہے۔ چھوٹی بحروں میں ان کے کئی ایک اشعار زبان زدِ عام ہیں۔ انور شعور جدید غزل کے نمائندہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ قطعہ نگاری بھی ان کی شہرت کا ایک بنیادی حوالہ ہے۔ ان کی شاعری میں شریک موضوعات انتہائی حساس نوعیت کے ہیں، جو انسان کے داخلی اور خارجی معاملات سے مکالمہ کرتے ہیں۔ رومانویت اور جمالیات کے نقوش ان کی شاعری میں واضح طور پر محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ آدمی، طلسم، انتظار، دھوکا، جستجو، شراب، شام، رات، غم، تلاش، زہر، صحبت، ہمدم، زنداں، صیاد، بدن، حیرت، سفر، مشقت جیسے موضوعات کی گہرائی سے ان کی شاعری لبریز ہے۔
-

وہ لب میری نظر کے سامنے ہے
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

مبادا اُس گلی میں جاؤں تو للکار دے کوئی
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

ذہن میرا جِلا کے رُخ پر ہے
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

کیا بیابان، کیا نگر جاؤ
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

تم نے جو عہد کئے تھے وہ سبھی توڑے ہیں
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

تری تلاش میں نکلے ہوؤں کا حصّہ ہیں
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

قلاش گو زمین پہ مجھ سا کوئی نہیں
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

سوال ہی نہیں دنیا سے میرے جانے کا
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

کماں بردوش و آہن پوش رہتا
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

موضوعِ گفتگو تری تقریر ہو گئی
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

ہوگئے دن جنہیں بھلائے ہوئے
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

توفیقِ علم و حلم و شرافت نہیں مجھے
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

خدا کا شکر، سہارے بغیر بیت گئی
انور شعور کا ایک قطعہ
-

سلیمانِ سخن تو خیر کیا ہوں
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

ہم نوائی کی اُمید اے مرے فن کس سے کروں
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

آدمی کو خاک نے پیدا کیا
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

میں خاک ہوں، آب ہوں، ہوا ہوں
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

دھیان میں وا دریچہء چشمِ کرم کیے ہوئے
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

ایسے دیکھا کہ دیکھا ہی نہ ہو
انور شعورکی ایک اردو غزل
-

ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں
انور شعورکی ایک اردو غزل