آپ کا سلاماردو غزلیاترفیق لودھیشعر و شاعری

ہمیں جزیرہ ء امکان تک پہنچنا ہے

ایک اردو غزل از رفیق لودھی

ہمیں جزیرہ ء امکان تک پہنچنا ہے
کسی اداسی کے سامان تک پہنچنا ہے

مرا عدم کسی زنجیر کا اشارہ ہے
مرے وجود کو زندان تک پہنچنا ہے

بہت ہی دیکھتے ہو خواب میں بیاباں کو
ابھی تو ہاتھ گریبان تک پہنچنا ہے

تمہیں تو نیند مبارک ہے منزلوں والو
ہمیں تو خواب ِ پریشان تک پہنچنا ہے

سر ِ نگاہ بدلتے رہے چراغ ِ سخن
ہمیں تو میر کے دیوان تک پہنچنا ہے

ابھی چراغ تلے مستقل اندھیرا ہے
ابھی شعور کو انسان تک پہنچنا ہے

رفیق لودھی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button