- Advertisement -

ژالہ باری کی رات اور پِرجا کا حلالہ

ایک اردو افسانہ از سید زاہد

ژالہ باری کی رات اور پِرجا کا حلالہ

اترسوں رات سے موسم خراب تھا۔ اس سال سردی کڑاکے کی پڑی تھی۔ موسم کی شدت ہر چیز کو غارت کردینے پر تلی تھی۔ بہار کا موسم شروع ہو چکا تھا پھاگن کا مہینہ تھالیکن سردی جانے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ بادلوں کے اوٹ سے جھانکتے تر چھے سورج کی زرد روشنی ابھرتی ہوئی گندم کے خوشوں کو پیلا رنگ رہی تھی۔ کبھی کبھی دکھائی دیتے سورج میں حدت ذرا برابر بھی نہیں تھی۔ شمال کے پہاڑوں سے آنے والی برفانی ہوائیں اٹھ اٹھ کر شدت سے چلنے لگی تھیں۔

آہستہ آہستہ کہر اور کالے بادل ہر طرف چھا رہے تھے۔ گرد و غبار کے بادل بھی اٹھ رہے تھے۔ آندھی کی علامت تھی۔ تیز ہواؤں کے جھکڑ چلنا شروع ہو گئے۔ سر سراہٹ اور گڑ گڑا ہٹ۔ قدرت نے آندھی میں طوفان کی روح ودیعت کر دی تھی۔ ریت اور مٹی کے ساتھ گردکے سنگریزے اڑ اڑ کر چہروں کو زخمی کر رہے تھے۔ ایک عجیب دہشت تھی۔ الامان و الحفیظ۔ افق سے ابھرتے زرد رنگ کے ابر کی ایک نئی تہہ اس خاک آلودہ ماحول کو مزید خوف زدہ کر رہی تھی۔ یہ ہوا، یہ برق، یہ ابر و رعد، یہ تیرگی، جملہ ہولناکیوں کے ساتھ پھاگن کے مہینے میں ژالہ باری کی علامت تھی۔ پچھلی فصل کی پیداوار بھی اسی وجہ سے انتہائی کم حاصل ہوئی تھی۔

لوگ اونچی ڈھیری پر واقع مزار میں جمع، ہواؤں کے تھپیڑے سہتے ہوئے، شہر سے آنے والے بنجر راستے پر نظریں جمائے کھڑے تھے۔ پیر دربار پر موجود نہیں تھا۔ جواں مرد، بڑے بوڑھے، عورتیں اور بچے جو بدستور دست بدعا آسمان کی طرف منہ اٹھائے کھڑے، بُت معلوم ہوتے تھے۔ بچے دبکے بیٹھے تھے۔ طویل انتظار اور خوف سے لوگوں کے دل اُوب گئے تھے۔ لیکن ’پِرجا‘ بہت پر امید تھا۔ باوا جی پہنچتے ہی ہاتھ اٹھائیں گے ان کی دعا کامیاب ٹونا بن کر گھٹاؤں کا زور توڑ دے گی۔ پِرجا کا ان پر اندھا اعتقاد تھا۔ اسے پکا یقین تھا، ”پیر اولے باندھ دیں گے۔ پیر کا صدقہ، میری فصل کی رب خیر کرے۔ طوفان تھم جائے گا۔ “

وہ اسی دربار پر پلا بڑھا تھا۔ دربار کی ڈھائی تین ایکڑ زمین پر آم کا باغ تھا۔ یہ باغ اس نے ٹھیکے پر لیا ہوا تھا، پودوں پر بور لگا ہوا تھا۔ پودوں کے درمیان اس نے گندم اور اپنی ایک بھینس کے لئے چارا لگایاہوا تھا۔ ایک اور ایکڑ جو نہر کے کنارے تھا اس میں وہ سبزی بیج لیتا تھا جس سے اس کے روز مرہ کے اخراجات پورے ہو جاتے۔ اس کی جائداد تو کوئی تھی نہیں، اگر فصل اچھی ہو جاتی تو اس کو کھانے کو روٹی مل جاتی۔ مینہ برسنا شروع ہو گیا تھا۔

اور پھر شدید ژالہ باری۔ یوں لگتا تھا پہاڑوں سے پتھر ٹوٹ کر گرنا شروع ہو گئے ہیں۔ طوفان کے ساتھ اس کی امیدیں، امنگیں ژالہ ساں گھلے جا رہی تھیں۔ حقو اس کے پیچھے کھڑی تھی۔ مڑ کر کہنے لگا ”پنج تن پاک کی خیر ہو، باوا پیر، کہیں طوفان میں نہ پھنس گئے ہوں؟ “ بیوی کی آنکھوں سے اشکوں کے قظرے ژالہ کی طرح ہی ٹپک رہے تھے۔ بولی ”پیر سائیں وہاں سے بھی تو دعا کر سکتے ہیں۔ “

”کیسی باتیں کر رہی ہو؟ کیا وہ نہیں چاہتے کہ ہماری فصلیں بچ جائیں؟

تم جب بھی بولتی ہو شک کا اظہار ہی کرتی ہو۔ تمہارا ایمان کمزور ہے۔ ”

وہ ایسی باتیں کئی بار سن چکی تھی۔ سنا ان سنا کر کے زیر لب کہنے لگی

”ژالہ باری قدرت کا کھیل ہے۔ جو ہماری قسمت۔ “

طوفان کچھ تھما تو پیر سائیں کی گاڑی مزار کی حدود میں داخل ہوئی۔ لوگ بچھ بچھ جا رہے تھے۔ پیر صاحب نے ان کو حوصلہ دیا اور دعا میں مشغول ہو گئے۔

وہ دونوں بھی شامل تھے۔ بارش رک چکی تھی۔ ہر طرف اندھیرا چھا چکا تھا۔ وہ نا امید سے گھر واپس آ گئے۔

وہ حقو سے بہت پیار کرتا تھا۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ کالی گھٹاؤں کے درمیان چمکتا ہوا سندر چتر مکھڑا، سرخ گیلے ہونٹ جیسے تازہ کٹا ہوا انجیر جس کی بوند بوند میں مٹھاس رچی بسی تھی۔ محراب دار ابرو، نین چنچل اور دربار کے صدیوں پرانے متبرک کنویں سے بھی گہرے۔ صراحی دار گردن ہر پہناوے سے اٹکتی ہوئی، الجھتی ہوئی۔ بازو مضبوط اور ملائم۔ متناسب جسم، تانبے اور سندور کا ملا جلادمکتا رنگ۔ جوانی اس پرٹوٹ کر برسی تھی۔

پیراہن اس کے لاریب شفاف بدن کی ہر جاے دلکش سے چسپاں ہو کر اتراتا تھا۔ شادی کو دو سال ہو چکے تھے۔ وہ ماں نہ بن سکی تھی۔ پرجا اسے بارہا کہہ چکا تھا کہ پیر سائیں سے تعویز لکھوائیں۔ لیکن حقو ماننے کو تیار ہی نہیں تھی۔ پیر سائیں کا خاص چیلہ ’عمرا‘ اسے کئی بار سمجھا چکا تھا۔ اسے یہ چیلہ زہر لگتا تھا۔ اس کی نظر شیطانوں جیسی تھی۔ وہ آنکھیں گڑو گڑو کر عورتوں کو دیکھتا، معلوم ہوتا تھا کہ وہ کپڑوں کے پار جسم کو گھور رہا ہے۔

نذرانے ہمیشہ وہی وصول کرتا تھا اور اکثر پکڑتے ہوئے وہ اپنے ناخنوں سے ان کے ہاتھ چھیل دیتا۔ اس کے بولنے کا انداز ہیجڑوں جیسا تھا۔ ٹھوڑی پر کچھ کچھ بال تھے اور گالوں پر اس سے بھی کم۔ مونچھیں بھی باریک سی۔ اوپر والا ہونٹ کھنڈا تھا اور حنک (زخنداں) بھی تھوڑا سا مشقوق (دو شاخہ)۔ غاں غاں کر کے بولتا تھا۔ کہتے تھے کہ پیدائشی طور پر ہے تو مرد ہی، لیکن۔ ہیجڑہ؟

پرجا اسے لے کر پیر سائیں کے پاس گیا اور تعویز کرنے کا کہا۔ وہ بولا ”پیر سائیں پیٹ پر تعویز لکھیں گے تو اللہ، پنجتن پاک رحمت کر دے گا۔ “

حقو شرم سے پانی پانی ہو گئی۔ عمرے نے اس کے پیٹ سے کپڑا اٹھانے کی کوشش کی تو وہ چلا اٹھی۔ اگر اس کا پیٹ کھل جاتا تو اس کی چمک دمک اور تھر تھراہٹ سے دربار کی چھت بھک سے اڑجاتی۔ اس نے اپنی قد کاٹھی چھپا لئے اور زمین پربیٹھ گئی۔ کھنڈا کہنے لگا ”نہ دہیے نہ۔ پیر تو مائی باپ ہوتا ہے۔ ان سے کیا پردہ؟

دیکھو! دودھ پوت پر پیر سائیں کی مہر ہوتی ہے۔ پیر ہاتھ لگا دے تو سوکھے درختوں سے بھی کونپلیں پھوٹ آتی ہیں اور تم تو ہری بھری کھیتی ہو۔ سرکار پھل لگائیں گے۔

پیر سائیں پیڈو پر نقش بنائیں گے۔ کلام لکھیں گے، تو ادھر چاند اترے گا۔ ”

”لیکن، میں۔ نہ نہ۔ ۔ “ وہ مارے شرم کے سمٹ کر چھوئی موئی کی گٹھڑی بن گئی۔

پیر سائیں بھی زمانہ آشنأ تھے۔ چیلے کو مخاطب کر کے کہنے لگے ”اوئے عمرے! کیوں زبردستی کرتا ہے معصوم پر۔ جا! اسے گھر میں مائی پاک کے پاس لے جا۔ اسے میں بتا دوں گا وہ نقش لکیر دے گی۔ تمہاری بڑی مائی بہت کرنی والی ہے۔ “

حقو گھر جانے کو بھی تیار نہ تھی۔ پِرجا اسے غصے سے واپس لے آیا۔ اگلے دن اسے دوبارہ مائی کے پاس لے کرگیا اور اس کے نہ ماننے پر ایک تعویز لکھوا کر لے آیا۔ جو زبر دستی اس کے پیٹ پر باندھ دیا۔ رات کو جب وہ جفت ہونے لگے تو حقو نے اسے پھر اتار دیا۔

”میں اسے اپنے اور تمہارے درمیان نہیں آنے دوں گی۔ “

”کیوں؟ “

”یہ کلام ہے تو، ناپاک جگہ پر کیوں لگنے دوں۔ اگر یہ جادو ٹونا ہے تو میں ایسی جہالت کو نہیں مانتی۔

اور میں کہہ رہی ہوں۔ میرے اور تمہارے بیچ کوئی بھی نہیں آ سکتا۔ ”

”لیکن یہ تو مائی پاک کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ “

”اب ہمارے درمیان اس حالت میں تمہاری یہ ماں آئے گی۔ مجھے یہ پسند نہیں۔ “

پرجا غصے میں آگیا۔ وہ پہلے ہی حقو کے پیر مخالف خیالات سے نالاں تھا۔ وہ تھا پیر پرست، اس کے لئے سب کچھ پیر کی ذا ت ہی تھی۔ با باجی کی پیروری میں ہی اسے دونوں جہانوں کی کامیابی دکھائی دیتی تھی اور حقو ہمیشہ اس کی مخالفت کرتی تھی۔ اب ان باتوں نے اسے بڑھکا دیا۔

”ایک تو تم اوتر بیٹھی ہو اور پھر مائی جی سرکار کو برا بھلا کہہ رہی ہو۔ اگر ان کا لکھا تعویز تمہیں پسند نہیں، تو تم مجھے بھی پسند نہیں۔ تمہیں یہ تعویز اگر ماں لگتا ہے تو مجھے ایسی بیوی نہیں چاہیے۔ اب اگر میں تجھے ہاتھ لگاؤں، تو تم میری ماں۔ “

حقو ہکا بکا رہ گئی۔

”یہ کیا کہہ رہے ہو؟ کیسی جاہلانہ باتیں کر رہے ہو تمہیں ماں اور بیوی میں فرق رکھنا چاہیے۔ پیچھے ہٹو۔ “

”ٹھیک ہے میں اگر جاہل ہوں تو جاؤ کوئی اور ڈھونڈ لو۔ میں نے تمہیں طلاق دی۔ طلاق، طلاق، طلاق۔ دفع ہو جاؤ۔ “

اختلاف تو چھوٹی سی بات پر ہوا تھا لیکن چونکہ یہ مذہبی معاملہ تھا اس لئے بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک پہنچ گئی۔ حقو اٹھ کر صحن میں جا بیٹھی۔ وہ روتی جا رہی تھی۔ پرجا کا غصہ کچھ کم ہوا تو اس نے سوچنا شروع کیا کہ یہ میں نے کیا کہہ دیا ہے؟ رات بیتی جا رہی تھی۔ باہر شدید سردی تھی اور وہ ادھر بیٹھی تھی۔ وہ اس کے پاس گیا۔ تو چلا اٹھی۔

”اب جاؤ! مجھے ہاتھ مت لگانا۔ “

”اندرآ جاؤ۔ سردی میں بیمار ہو جاؤ گی۔ “

”مر جانے دو، مجھے۔ “

اب وہ اپنی غلطی پر پچھتا رہا تھا۔

لیکن اب ندامت و پشیمانی سے کیا لابھ؟

اگلی صبح وہ پیر کے قدموں میں بیٹھا رو رہا تھا۔ ”پیر سائیں، اب کیا ہو گا؟ “

”طلاق تو ہو گئی۔ بہت برا ہوا۔ “

”سرکار، کوئی راستہ دکھائیں۔ میں تو اس کے بغیر مر جاؤں گا۔ میرا تو اس دنیا میں کوئی بھی نہیں۔ “

”ٹھیک ہے، حل نکالیں گے۔ تم فکر مت کرو۔

جا او، عمرے۔ مولوی صاحب کو بلا کر لا۔ یہ شرعی مسئلہ ہے، ہم طریقت کو ماننے والے ہیں لیکن شریعت پر بھی پابند ہیں۔ ”

مولوی صاحب نے فتویٰ دیا کہ دونوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اب وہ ایک گھر میں نہیں رہ سکتے۔ مبادا بہک کر گناہ کر بیٹھیں۔ نوے دن کی عدت پوری ہونے کے بعد حلالہ ہوگا۔ پھر عدت۔ پھراس سے نکاح دوبارہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اس نے اپنی بیوی کو ماں کہہ کر ظہار کیا ہے اس لئے اس کا کفارہ بھی لازم ہے۔ ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کھانا بھی کھلائے یا پھرمسلسل ساٹھ روزے رکھے۔

وہ خود مسکین تھا، کھانا کہاں سے کھلا سکتا تھا۔ روزے رکھ لے گا، لیکن نوے نوے دن کی دو عدتیں اور حلالہ۔ وہ کانپ اٹھا۔

”مولوی صاحب کوئی اور حل نکالیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں طلاق تو ایک ہوئی ہے۔ رجوع ہو سکتا ہے۔ “

”یہ ہماری فقہ میں نہیں۔ تم نے تین مرتبہ طلاق دی۔ تین طلاقیں ہو گئیں۔ “

”مولوی صاحب، ہمارے ملک کا قانون کچھ اور کہتا ہے۔ “ پاس ہی بیٹھا پیر سائیں کا بیٹا جو نیا نیا وکالت کا امتحان پاس کر کے آیا تھا، بولا

”صاحبزادہ سرکار، آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ لیکن فقہ اس کی تابع نہیں۔ چھوڑیں قانون کو، وہ غیر اسلامی ہے۔ “ مولوی بولا،

”ان قوانین کو بھی علمأ، وکلأ، سیاست دان اور عوامی نمائندگان نے باہم رضا مندی سے بنایا ہے۔ “ صاحبزادہ بھی ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔

”ہم کسی قانون کو نہیں مانتے۔ میں کوئی غیر شرعی فتویٰ نہیں دے سکتا۔ اسے ہمارے ہاں رہنا ہے تو ہماری فقہ اور ہماری مرضی چلے گی۔ بات ختم۔ “ مولوی نے کنکھیوں سے پیر سائیں کی طرف دیکھتے ہوے کہا۔

حقو زار و زار روتی جا رہی تھی۔ وہ اٹھ کر جانے لگی تو عمرا بولا ”کہاں جا رہی ہو؟ اب تم اس کے گھر نہیں جا سکتی ہو۔ یہ کنجر خانہ نہیں چلے گا۔ “

”بکواس بند کر، “ پیر صاحب چلائے۔ ”سوچ سمجھ کر بولا کر۔ اس کا کون سا گھر ہے جہاں وہ جا سکتی ہے؟ وہ اسی گھر میں رہے گی اور پرجا ادھر دربار میں۔ “

”پیر سائیں وہ اکیلے کیسے رہ سکتی ہے؟ “ پرجا روپڑا۔

سب سوچ میں پڑ گئے اس کے ماں باپ بھی نہیں تھے۔ وہ کدھر جاتی۔

”ٹھیک ہے۔ یہ عدت تمہاری چھوٹی مائی پاک کے پاس شہر میں پوری کرے گی۔ حقو اس گاؤں میں رہے، نہ ان دونوں کا ایک دوسرے کو دیکھ کر دل للچائے۔ “

پیر سائیں نے فیصلہ سنا دیا۔

حقو بی بی کو پیر سائیں کے گھر شہر منتقل کر دیا گیا۔ اور پرجا دیوانہ تنہائی کی چادر اوڑھے اپنے گھر کی ویران چوکھٹ پر جبیں سائی کو چل پڑا۔

اب اس کے دن بے رنگ اور راتیں اندھیری تھیں۔ وہ اپنے آپ سے ڈرتا تھا۔ اسے ہر آواز میں، ہر آہٹ پر حقو کے دل کی دھڑکنیں سنائی دیتی تھیں۔ وہ سائے دیکھ کر بھڑک اٹھتا تھا۔ اس نے اسے راستے میں کھو دیا تھا۔ وہ اسے ڈھونڈتا تھالیکن وہ اپنے آپ سے ہی بھاگ رہا تھا۔ وہ خود کو تہس نہس کر دینا چاہتا تھا۔ اپنے وجود سے الگ ہونا چاہتا تھا۔ وہ اپنے الفاظ کی راکھ اپنے منہ پر مل کر دفن ہو جانا چاہتا تھا۔ عدت کے بعد آنے والی واردات کے بارے میں سوچتا تو دیواروں سے سر ٹکرانا شروع کر دیتا۔ ایک دم ٹھنڈا پڑ جاتا۔ جب بھی وہ دربار میں جاتا تو بہت سی ملنگنیوں کو دیکھتا جو ایسے ہی مسائل میں الجھ کر دربار پر آئیں اور پھر ان کو لینے ان کے خاندان کا کوئی فرد نہیں آیا۔

ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ پیر سائیں کو کوئی اور راستہ ڈھونڈنے کا کہے گا۔ پیر سائیں اب اکثر شہرمیں ہی رہتے تھے۔ جمعرات کو آئے تو دم درود کروانے والوں کا بہت رش تھا۔ وہ سارا دن دربار کے برآمدے میں بھوکا پیاسا بیٹھا رہا۔ رات گئے پیر صاحب فارغ ہوئے تو وہ ان کے قدموں سے لپٹ گیا۔ ”باوا سائیں تین ماہ ہونے کو ہیں۔ اب کیا ہوگا؟ “

پیر نے بیٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔

”فکر نہ کر پرجا۔ تیری مشکل کٹنے والی ہے۔ اب اس کا حلالہ ہو گا۔

تو نے روزے پورے کر لئے ہیں؟ ”

”پیر سائیں، وہ تو شرم سے مر جائے گی۔ “

”دوسرا کوئی حل ہے ہی نہیں۔ اور شرم والی بھی کوئی بات نہیں۔ شرع میں کیا شرم؟ اپنا عمرا ہے نہ۔ ہے تو مرد ہی، لیکن وہ کون سا پورا مرد ہے۔ جیسا اس کا ہونٹ اور تالو کٹا پھٹا ہے ویسا ہی سب کچھ ہے۔ سب کچھ کھنڈا سا، اور وہ بھی تنکے جتنا۔ جب سے یہ دربار پر آیا ہے لوگوں کی قسمت سنور گئی ہے۔ اب تم نے دیکھا ہو گا کہ بہت کم لوگ اپنی عورتوں کو ادھر چھوڑ کر جاتے ہیں۔ ان کا کچھ بگڑتا ہی نہیں۔ شرع کی حجت بھی پوری ہو جاتی ہے۔

تم اپنی بات کہو۔ تم نے روزے پورے کر لئے ہیں؟

وہ تو میں نے ابھی شروع ہی نہیں کیے؟

تو کب کرو گے؟

اگلے ہفتے پہلی عدت پوری ہو جائے گی تو میں اسے لے کر یہاں آؤں گا اور ادھر دربار میں ہی نکاح کروا کر واپس شہر بھیج دوں گا۔ اگلے دن طلاق۔ تم دربار سے دور ہی رہنا۔ دور دور سے اسے دیکھ لینا۔ وہ تمہیں دیکھے گئی تو بہت تڑپے گی۔ تم تو مرد ہو تم برداشت کر لو گے، اس کے لئے مشکل ہو گی۔

یہ سب سن کر اس نے دونوں ہاتھوں سے اپناچہرہ چھپا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو نے لگا۔ پیر سائیں اسے دلاسا دیتے ہوئے اٹھ کر چل دیے۔ جاتے ہوئے کہنے لگے ”جومیں نے تمہیں وظیفہ بتا یا تھا وہ پڑھا کرو۔ رات کو سوتے وقت اول آخر درود شریف پڑھ کر شجرہ نسب کا ورد کیا کرو۔ سرکاراں کی رحمت ہو گی۔ “

اسے کچھ حوصلہ ہو گیا تھا لیکن وہ سوچتا تھا کہ میری حقو تو بہت شرمیلی ہے وہ تو باپ بجا پیر کے سامنے پیٹ کھولنے کو تیار نہیں ہوئی تھی۔ یہ شیطان عمرا تو اسے کاٹ کھائے گا۔ وہ مردار خور، نذرانوں پر پلنے والا، جب کچھ کر نہیں سکے گا تو جنجھلا ہٹ میں اسے زخمی کر دے گا۔ اس کے لگڑ بگڑ جیسے دانت نرم و ملائم جلد کو نوچ ڈالیں گے۔ اس کی ایسی شکائتیں وہ پہلے بھی سن چکا تھا۔ لیکن اُس وقت وہ سنی ان سنی کر دیتا تھا۔ اور اسے سمجھ بھی نہیں آتی تھی۔ اب وہ سوچ سوچ کر پاگل ہوئے جا تا تھا۔ کبھی وہ سوچتا یہ شیطانی خیالات ہیں جو اسے بڑھکاکر بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔ اس نے وسوسوں کو بھگانے کے لئے خدا سے لو لگا لی۔

شیطان انسان کی رگوں میں خون کے ساتھ دوڑتا ہے۔ بھوک اس کی راہ مسدودکرتی ہے۔ ساٹھ دن مسلسل روزہ۔ گرمیاں شروع ہو چکی تھیں۔ یہ آسان نہیں تھا۔ لیکن اس نے فیصلہ کرلیا۔ تین ماہ کے دکھ اور فاقوں نے اسے پہلے ہی کمزور کردیا تھا۔ پہلے دن ہی اس کا حلق سوکھ کر کانٹا ہو گیا اور وہ شام تک بھوک سے نڈھال ہو چکا تھا۔ روزہ کھولنے کے بعد وہ نیم مردہ چارپائی پر لیٹ گیا۔ اسے مولوی پر غصہ آ رہا تھا۔ اس نے جھٹ فتویٰ دے دیا تھا۔

ملکی قانون بھی ایسی طلاق کو نہیں مانتا۔ بہت سے علمأ ایک وقت میں دی گئی طلاقوں کو ایک ہی شمار کرتے ہیں۔ وہ رجوع کر سکتا تھا۔ اس نے خود کو کوسنا شروع کردیا۔ وہ جلدی سے بھاگ کر پیر کے پاس چلا گیا تھا۔ گھر میں ہی چپ چاپ روزے رکھ کر کفارہ ادا کر دیتا۔ غلطی اس نے کی اور سزا حقو کو مل رہی تھی۔ طلاق اس نے دی حلالہ عورت کا۔

روزوں سے اس کی رہی سہی طاقت بھی جاتی رہی۔ اس کی بھینس چارے کی کمی سے مر گئی۔ ژالہ باری نے آموں کی فصل کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔ اس کے بعد وہ ان کی بھی حفاظت بھی نہ کر سکا۔ اس کا گھر ویران ہو گیا تھا۔ وہ سوکھ کر کانٹا بن گیا تھا۔

نہ کوئی روٹی پکانے والا اور گرمیوں کے روزے۔ اب وہ سحری میں صرف پانی پی کر ہی روزہ رکھ لیتا تھا سارا دن دربار پر پڑا رہتا۔ شام کوچڑھاوے میں جو بھی ملتا زہر مار کر لیتا۔ وہ بھی بہت کم۔

اب وہ ہر چیز سے بے تعلق نچنت ہو گیا تھا۔ زندگی میں نفع نقصان کی پرواہ نہیں رہی تھی۔ بھوک، فاقہ انسان کو صبر سکھا دیتاہے اور روزہ، توکل اور بے خوفی۔ اور اگر انسان یہ سب اپنی مرضی سے کرے، روزے نفلی رکھے تو ہر مرئی اور غیر مرئی چیز سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ بھوک اسے مجبور نہیں کر سکتی۔ اس نے بھوک کو دور بھگا دیا تھا۔ وہ اس پر ہنس سکتا تھا۔ اب وہ مکمل آزادہو گیا تھا۔ اس نے خاموشی اختیار کر لی۔ وہ بولنا چاہتا بھی تو بول نہیں سکتا تھا۔ دو ماہ کے روزوں نے اسے لکڑ بنا دیا۔ پیر صاحب دربار میں آتے تو وہ دھیان ہی نہ دیتا۔ عمرا ہر جمعرات کو اس کا حال جاننے اس کے پاس ضرورآتا۔ وہ بے سدھ پڑا منہ دوسری طرف پھیر لیتا۔ منجمد چہرے میں کچھ دکھائی نہ دیتا۔

کبھی کبھی وہ ملنگوں کے پاس بیٹھ جاتا، ٹک دیکھتا اور سر جھکا کر پڑے رہتا۔ بھاگ کر ملنگنیوں کی طرف جاتا اور فورا ًواپس آجاتا۔ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ وہ نشئی ہو گیا ہے۔

ایک دن پیر صاحب نے بلایا تو اسے پتا چلا کہ دوسری عدت بھی پوری ہونے والی ہے۔ پوچھا ”روزے پورے ہو گئے؟ “ وہ خاموش رہا۔ ایک ملنگ بولا ”یہ کئی ماہ سے ادھر پڑا ہے ہم نے کبھی دن میں اسے کچھ کھاتے پیتے نہیں دیکھا۔ “

پیر سائیں کہنے لگے ”اگلی جمعرات کو اس کا نکاح حق بی بی سے پڑھایا جائے گا۔ “

اس کے جسم میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔ عمرے نے معنی خیزنظروں سے پیر کی طرف دیکھا۔ ان کا چہرہ انتہائی پر سکون تھا۔

جمعرات کو پیر صاحب کی گاڑی سے گٹھری سی بنی حقو کو جب نکالا گیا تو وہ پھر بھی خاموش بیٹھا رہا۔ حقو نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور اس کے بائیں طرف سر جھکا کر بیٹھ گئی۔ مولوی صاحب موجود تھے۔ نکاح کے لئے پیر صاحب کی اجازت سے ایجاب و قبول کا پو چھا تو یک دم عمرا سامنے آ گیا۔

”یہ نکاح نہیں ہو سکتا۔ “

سب لوگ سہم گئے۔ روشن دانوں اور سوراخوں میں چپ بیٹھے پرندے پھڑ پھڑانے اور شور مچانے لگے جیسے باگڑ بلے، چیل کوے ان کے نوزائیدہ بوٹ اٹھا کر لے گئے ہوں۔ پرجا میں کوئی ہل جل نہ ہوئی۔

”کیوں، عمرے کیوں؟ “ پیر صاحب نے پوچھا۔

”یہ حاملہ ہے اور میرے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ “

”یہ کیا کہہ رہا ہے، تو؟ “

”پوچھ لیں اس سے۔ “

پرجا کا جھکا سر مزید جھک گیا۔

مولوی اٹھ کر کھڑا ہو گیا

” حاملہ کا نکاح پڑھا کرمیں گناہ گار نہیں ہونا چاہتا۔ “

حقو نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔

”ہاں۔ ہاں میں حاملہ ہوں۔ لیکن اس کھسرے کے بچے کی ماں نہیں۔ اس پیر نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے اور میں اس وقت بھی حاملہ تھی جب میرا نکاح اس مردار خور کھنڈے سے پڑھایا گیا تھا۔ اور اس مولوی کو بھی سب پتا تھا۔ یہ لوگ مجھے کبھی بھی پیر کی بیگم کے گھر لے کر نہیں گئے۔ یہ بھڑوا، بھپڑ دلال مجہول لوگوں کی عورتیں اپنے نکاح میں لا کر پیر کو پیش کرتا ہے۔ پیر روز میرا جسم نوچتا رہا ہے۔ انہوں نے پرجا کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ میں خاموش تھی کہ بالآخر میری مصیبت ٹل جائے گی۔ لیکن اب میں خاموش نہیں رہ سکتی۔ “

پرجے کے جسم میں حرکت ہوئی۔ وہ غصے سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ فرش پر زور سے پاؤں مارا تو دربار کے درو دیوار کانپ اٹھے

”میں نہیں مر سکتا۔ اب میں کمزور نہیں، اور بھی مضبوط ہو گیا ہوں۔ اوے مولوی، حرام کھانے ولوں کے تم طرف دار ہو، بدکاروں کے ساتھی اور ناجائز کرنے والوں کے ہمدرد۔ ان کے لئے کوئی پابندی نہیں اور حق داروں کے راستے میں تم شریعت کی دیوار کھڑی کر دیتے ہو۔

ہمیں تمہارے دوبولوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ ”

پِرجا نے حق کا بازو تھام لیا اور دربار سے باہر چلا گیا۔

سید محمد زاہد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
مشتاق یوسفی کی ایک اردو مزاحیه تحریر