اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

کس توقع جئیں ہم دیوانے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

کس توقع جئیں ہم دیوانے
کون کرتا ہے کرم دیوانے

پاسِ حالات بجا ہے لیکن
ہو نہ جائیں کہیں ہم دیوانے

اس زمانے میں وفا کا دعویٰ
خود پہ کرتے ہیں ستم دیوانے

زندگی تلخ ہوئی جاتی ہے
کھو نہ دیں اپنا بھرم دیوانے

چونک چونک اٹھے خرد کے بندے
جب بھی مل بیٹھے بہم دیوانے

ڈھونڈتے پھرتے ہیں عنواں کوئی
کر کے افسانہ رقم دیوانے

کھا گئے قحط جنوں میں باقیؔ
بیچ کر لوح و قلم دیوانے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button