اردو غزلیاتشعر و شاعرینوشی گیلانی

کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

ایک اردو غزل از نوشی گیلانی

کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے
برف کے پگھلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

اُس نے ہنس کے دیکھا تو مُسکرا دیے ہم بھی
ذات سے نکلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

ہجر کی تمازت سے وصَل کے الاؤ تک
لڑکیوں کے جلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

بات جیسی بے معنی بات اور کیا ہو گی
بات کے مُکرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

زعم کِتنا کرتے ہو اِک چراغ پر اپنے
اور ہَوا کے چلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

جب یقیں کی بانہوں پر شک کے پاؤںپڑ جائیں
چوڑیاں بِکھرنے میں دیر کِتنی لگنی ہے

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button