اردو غزلیاترحمان فارسشعر و شاعری

وداع یار کا لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں

رحمان فارس کی ایک غزل

وداع یار کا لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں

میں خود تو زندہ رہا وقت مر گیا مجھ میں

سکوت شام میں چیخیں سنائی دیتی ہیں

تو جاتے جاتے عجب شور بھر گیا مجھ میں

وہ پہلے صرف مری آنکھ میں سمایا تھا

پھر ایک روز رگوں تک اتر گیا مجھ میں

کچھ ایسے دھیان میں چہرہ ترا طلوع ہوا

غروب شام کا منظر نکھر گیا مجھ میں

میں اس کی ذات سے منکر تھا اور پھر اک دن

وہ اپنے ہونے کا اعلان کر گیا مجھ میں

کھنڈر سمجھ کے مری سیر کرنے آیا تھا

گیا تو موسم غم پھول دھر گیا مجھ میں

گلی میں گونجی خموشی کی چیخ رات کے وقت

تمہاری یاد کا بچہ سا ڈر گیا مجھ میں

بتا میں کیا کروں دل نام کے اس آنگن کا

تری امید پہ جو سج سنور گیا مجھ میں

یہ اپنے اپنے مقدر کی بات ہے فارسؔ

میں اس میں سمٹا رہا وہ بکھر گیا مجھ میں

رحمان فارس

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button