اردو زبان اور علامہ اقبال: تہذیبی ورثہ اور فکری بیداری
اردو زبان برصغیر کی مشترکہ تہذیب کا نہایت قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ صدیوں کی ثقافتی آمیزش، فکری ارتقاء اور اجتماعی شعور کی آئینہ دار ہے۔ اردو کی لطافت میں عوامی جذبات کی سادگی بھی ہے اور فلسفیانہ فکر کی گہرائی بھی۔ اسی زبان نے مختلف نسلوں اور علاقوں کے درمیان رشتہ جوڑنے کا کام کیا۔ اگر اردو زبان کے ارتقاء اور اس کے فکری قد کا ذکر کیا جائے تو اس کا سب سے نمایاں حوالہ بلاشبہ حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ ہیں۔
اقبالؒ نے اردو کو صرف شاعری کا وسیلہ نہیں بنایا بلکہ اسے ایک فکری اور انقلابی تحریک کی زبان بنایا۔ ان کا پیغام دلوں کو جھنجھوڑنے والا اور ذہنوں کو بیدار کرنے والا تھا، اور یہ پیغام اردو کے ذریعے عام مسلمانوں تک پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ اقبالؒ کی شاعری نے اردو کو محض ادبی زبان سے آگے بڑھا کر ایک قومی اور تہذیبی طاقت بنا دیا۔
اقبالؒ کی ابتدائی تعلیم سیالکوٹ اور لاہور کے علمی ماحول میں ہوئی جہاں فارسی و عربی کے ساتھ اردو بھی ان کی زندگی کا لازمی حصہ رہی۔ ان کی تخلیقات نے جلد ہی ادبی حلقوں میں جگہ بنا لی۔ تاہم اصل وسعت انہیں اس وقت ملی جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ گئے۔ کیمبرج یونیورسٹی، جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی اور لندن کے لنکنز اِن سے انہوں نے فلسفہ، قانون اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کی۔ مغربی فکر کا گہرا مطالعہ انہیں وسعتِ نظر تو دیتا رہا لیکن وہ اندھی تقلید کے قائل نہ ہوئے۔ اقبالؒ نے مغرب کی ترقی کے پہلوؤں کو سمجھا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مادی ترقی اپنی جگہ درست ہے، لیکن روحانیت اور اخلاقی اقدار کے بغیر یہ ترقی ادھوری ہے۔ یہی پیغام انہوں نے اردو شاعری کے ذریعے اپنی قوم تک پہنچایا۔
اردو کے توسط سے اقبالؒ نے غلام قوموں کو خودی کا سبق دیا۔ انہوں نے بتایا کہ قومیں اپنی پہچان، اپنی زبان اور اپنی تہذیب کو چھوڑ کر کبھی ترقی نہیں کر سکتیں۔ ان کے نزدیک اردو محض الفاظ کا ذخیرہ نہیں بلکہ مسلمانوں کی تہذیبی شناخت کی علامت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی بیشتر شاعری اور خطبات اردو میں پیش کیے تاکہ عوام براہِ راست ان کے پیغام کو سمجھ سکیں۔
1930ء کا الہ آباد اجلاس اسی سیاسی بصیرت کا مظہر ہے جہاں انہوں نے اردو زبان میں اپنا تاریخی صدارتی خطبہ دیا۔ اس خطاب میں انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا تصور پیش کیا۔ ان کا یہ خطاب صرف ایک سیاسی اعلان نہیں بلکہ ایک خواب کی صورت تھا جس نے بعد میں تحریکِ پاکستان کی بنیاد رکھ دی۔ اردو کے ذریعے کیا گیا یہ خطاب عوام کے دلوں میں براہِ راست اترا اور انہیں اپنے تشخص کی نئی پہچان دی۔
اردو ادب میں اقبالؒ کی شاعری کو سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی نظمیں اور غزلیں محض ادبی شاہکار نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی منشور ہیں۔ "شکوہ” اور "جوابِ شکوہ”، "طلوعِ اسلام”، "خضرِ راہ” اور "خودی” جیسی تخلیقات نے اردو کو فلسفیانہ فکر اور انقلابی روح عطا کی۔ ان کے اشعار آج بھی ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ ہم کون ہیں اور ہمیں کس سمت جانا ہے۔
پاکستان کے قیام کے بعد اردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ بھی اقبالؒ کی فکر اور خواب کا تسلسل تھا۔ ان کا یقین تھا کہ اردو ہی مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرو سکتی ہے۔ آج بھی اگر ہم اردو کو محض ایک زبان نہیں بلکہ اپنی شناخت کا ستون سمجھیں تو یہ ہمیں اتحاد اور ترقی دونوں فراہم کر سکتی ہے۔
افسوس کہ آج اردو زبان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انگریزی کی یلغار، تعلیمی اداروں میں اردو کی کمزوری، اور سائنسی و تحقیقی میدان میں اس کا کم استعمال وہ مسائل ہیں جن پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔ اگر ہم نے اپنی زبان کو صرف گھریلو گفتگو یا ادب تک محدود کر دیا تو یہ ہماری اپنی پہچان کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ اقبالؒ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اپنی زبان سے محبت اور اس کی ترویج کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
اردو اور اقبالؒ کا رشتہ محض شاعر اور زبان کا نہیں بلکہ فکر اور تحریک کا ہے۔ اقبالؒ نے اردو کو وہ وقار دیا جس نے اسے ایک قومی زبان بنایا اور مسلمانوں کو ایک نئے خواب کی طرف متوجہ کیا۔ آج اگر ہم واقعی اقبالؒ کے وارث ہیں تو ہمیں اپنی زبان کو علم، سیاست اور سائنس کی زبان بنانا ہوگا۔ یہی اردو کا وقار اور اقبالؒ کا خواب ہے، اور یہی ہماری تہذیبی بقا کی ضمانت۔
یوسف صدیقی








