آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

امت کی تقسیم اور دارفور کا خون

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

دنیا کے نقشے پر دارفور ایک عام سا خطہ لگتا ہے۔ مگر جو شخص تاریخ، سیاست اور انسانیت کی آنکھ سے دیکھے، اسے یہ زمین خون، خاک اور المیے کا ایک دردناک استعارہ نظر آتی ہے۔ دارفور کبھی امن و سکون کا علاقہ تھا۔ قافلے گزرتے، گاؤں آباد تھے، کھیتوں میں زندگی لہلہاتی تھی۔ الفاشر، شمالی دارفور کا دارالحکومت، تجارت کا دروازہ تھا۔ یہاں کی منڈیاں دور دراز کے علاقوں سے آنے والے تاجروں سے بھری رہتی تھیں۔ مگر آج وہی شہر ویران ہے، دیواروں پر خون کے دھبے ہیں اور گلیوں میں موت کی خاموشی ہے۔

دارفور کی خانہ جنگی دراصل طاقت، نسل اور مفادات کی وہ کہانی ہے جس میں انسانیت سب سے پہلے ماری گئی۔ دو ہزار تین میں جب جنگ شروع ہوئی، تو بظاہر یہ ایک مقامی تنازع تھا۔ مگر اس کے پیچھے نسل پرستی، ناانصافی اور طاقت کی غیر مساوی تقسیم چھپی ہوئی تھی۔ غیر عرب قبائل اپنے بنیادی حقوق کے لیے اٹھے تھے۔ وہ تعلیم، روزگار، اور زمین پر اپنے حق کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مگر خرطوم کی حکومت نے بجائے اصلاح کے، ان کے خلاف بندوقیں اٹھا لیں۔

حکومت نے "جنجوید” نامی ملیشیا تشکیل دی، جو عرب قبائل سے تعلق رکھتی تھی۔ یہ ملیشیا گاؤں کے گاؤں جلاتی گئی۔ عورتوں، بچوں، بوڑھوں پر ظلم ڈھائے گئے۔ اندازاً تین لاکھ لوگ مارے گئے اور بیس لاکھ بے گھر ہوئے۔ یہ المیہ اتنا گہرا تھا کہ اقوامِ متحدہ نے اسے نسل کشی (Genocide) قرار دیا۔ مگر دنیا کی عدالتیں خاموش رہیں۔ انصاف ایک بار پھر طاقت کے پاؤں تلے دب گیا۔

بعد میں یہی جنجوید ملیشیا "ریپڈ سپورٹ فورس” (RSF) کہلائی۔ حکومت نے سوچا کہ انہیں فوج میں شامل کر لیا جائے تاکہ یہ قابو میں آ جائیں، مگر ہوا الٹا۔ RSF طاقتور، منظم اور خودمختار ہوتی گئی۔ محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی نے اسے ایک منی آرمی بنا دیا۔ جدید اسلحہ، بھاری فنڈنگ، اور غیر ملکی روابط نے اسے ریاست کے اندر ریاست بنا دیا۔

اپریل دو ہزار تئیس میں سوڈان کی فوج اور RSF کے درمیان اقتدار کی جنگ چھڑ گئی۔ خرطوم سے شروع ہونے والی یہ جنگ رفتہ رفتہ ملک کے مغربی حصوں تک پھیل گئی۔ دارفور ایک بار پھر میدانِ جنگ بن گیا۔ سترہ مہینے تک الفاشر شہر محاصرے میں رہا۔ وہاں کے لوگ بھوک، پیاس اور خوف کے سائے میں جیتے رہے۔ بازار بند، اسپتال تباہ، اور اسکول ویران ہو گئے۔ اکتوبر دو ہزار پچیس میں بالآخر RSF نے الفاشر پر قبضہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی پورا دارفور باغی ملیشیا کے کنٹرول میں چلا گیا۔

اب وہاں ریاست نام کی کوئی شے باقی نہیں رہی۔ قانون بندوق کے دہانے پر ہے۔ زندگی ایک خواب بن چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق دارفور کے کئی علاقے مکمل تباہی کی زد میں ہیں۔ خوراک ختم، پانی آلودہ، اور دوائیں ناپید ہیں۔ بچے ہڈیوں کے ڈھانچے بن چکے ہیں، عورتیں خوف میں زندگی گزار رہی ہیں، اور مرد یا تو مارے جا چکے ہیں یا کسی کیمپ میں قید ہیں۔

اس المیے کی ایک اور تلخ حقیقت عرب ممالک کا کردار ہے۔ کئی معتبر عالمی رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات RSF کو اسلحہ، پیسہ اور لاجسٹک سہولت فراہم کر رہا ہے۔ بظاہر یہ سب تجارت اور سفارت کے نام پر ہے، مگر دراصل اس کے پیچھے مفادات چھپے ہیں۔ دارفور کی زمین سونے، تانبا، تیل اور دیگر معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔ عرب ریاستیں وہاں اپنے مفادات کے لیے سرمایہ لگا رہی ہیں۔ ان کا مقصد اپنی فوڈ سیکیورٹی اور علاقائی اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔ مگر افسوس، اس قیمت پر مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جب انسان خود سے سوال کرتا ہے کہ یہ سب کس کے لیے ہو رہا ہے؟ کیا ایک مسلمان کا خون اتنا سستا ہو گیا ہے کہ دوسرے مسلمان کے مفاد کی راہ میں بہا دیا جائے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب امتِ مسلمہ کا ضمیر تقسیم ہوا، تو دشمن کو کوئی زحمت نہیں اٹھانی پڑی۔ آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ امت قوموں میں بٹی ہوئی ہے، مفادات میں الجھی ہوئی ہے، اور طاقت کی غلامی میں مصروف ہے۔

بین الاقوامی برادری کا کردار بھی شرمناک ہے۔ اقوامِ متحدہ بیانات دیتی ہے، مغربی دنیا پریس کانفرنسیں کرتی ہے، مگر کوئی عملی قدم نظر نہیں آتا۔ افریقی یونین خاموش ہے، او آئی سی غیر متعلق۔ لگتا ہے کہ دارفور کے مظلوموں کی کوئی آواز سننے والا نہیں۔

یہ جنگ دراصل صرف سوڈان کی نہیں، یہ ہماری اجتماعی بے حسی کی جنگ ہے۔ وہی بے حسی جو فلسطین میں نظر آئی، وہی جو شام اور یمن میں تھی، آج دارفور میں دکھائی دے رہی ہے۔ ہم سب گواہ ہیں مگر بولنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں، مگر امت نہیں۔

اگر جنگ جاری رہی تو سوڈان کئی حصوں میں بٹ جائے گا۔ افریقہ کا سب سے بڑا ملک ٹکڑوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔ معیشت پہلے ہی برباد ہو چکی ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہیں، اور نوجوان نسل ہجرت پر مجبور ہے۔

الفاشر کا زوال ایک علامت ہے۔ یہ صرف ایک شہر کی شکست نہیں بلکہ ایمان، اخلاق اور انسانی وقار کی شکست ہے۔ ہر بار جب کسی مسلمان کی لاش بے گور و کفن رہتی ہے، تو دراصل امت کے ضمیر پر ایک اور قبر کھلتی ہے۔ دنیا کی خاموشی انسانیت کے ماتم میں بدل چکی ہے۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر آج دارفور میں خاموش رہیں گے، تو کل یہی کہانی کہیں اور دہرائی جائے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر انسانیت کے لیے کھڑے ہوں۔ اسلام کا پیغام امن، انصاف اور اتحاد ہے۔ مگر ہم نے اسے صرف الفاظ تک محدود کر دیا ہے۔

دارفور ہمیں ایک بار پھر یاد دلا رہا ہے کہ امت کی تقسیم کا نتیجہ ہمیشہ خون، ویرانی اور ذلت کی صورت میں نکلتا ہے۔ اگر ہم نے تاریخ سے سبق نہ لیا تو شاید آنے والے زمانے ہمیں بھی اسی طرح یاد کریں گے جیسے آج ہم اندلس، بغداد اور غرناطہ کے ملبے کو یاد کرتے ہیں۔

اللہ سوڈان کے مظلوموں پر رحم فرمائے۔
اللہ ہمیں اپنے اندر کی بے حسی سے نجات دے۔
اور اللہ ہمیں وہ بصیرت عطا کرے جو ظلم کے خلاف آواز بن سکے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button