تم ہنستے ہو، مسکراتے اچھے لگتے ہو
میرا نام لے کے بلاتے اچھے لگتے ہو
تمہاری سادگی اپنی جگہ حسین مگر
تم دل کی بات سناتے اچھے لگتے ہو
تمہاری آنکھوں میں جب خود کو دیکھتا ہوں میں
تم اُس گھڑی مجھے سب سے اچھے لگتے ہو
تمہارا انتخاب ہوں، یہی فخر ہے مجھ کو
تم مجھ پہ حق بھی جتاتے اچھے لگتے ہو
کبھی خفا، کبھی خاموش، کبھی شرارت میں
تم اپنی ہر ادا میں مجھے اچھے لگتے ہو
کبھی جو رات گئے نیند مجھ سے روٹھ جائے
تم نیند آنے تلک قصے سناتے اچھے لگتے ہو
میں سب کے سامنے ہنس کر چھپا لوں دکھ اپنے
تم بن کہے میرا حال جان جاتے اچھے لگتے ہو
تم میرے الفاظ میں آخر سما پاؤ گے کہاں
تم حسنؔ کے لکھے اشعار سے بھی اچھے لگتے ہو
میر حسن







