- Advertisement -

رِدائے شب نہیں رہی

ایک اردو غزل از ناصر ملک

رِدائے شب نہیں رہی
کوئی طلب نہیں رہی

سنو ! وفا کی آرزو
مجھے بھی اَب نہیں رہی

سحر کا رنگ سرخ ہے
شبِ طرب نہیں رہی

سخن بھی لڑکھڑا گئے
شراب جب نہیں رہی

تھکن مری شکست کا
کبھی سبب نہیں رہی

سنا ہے اُس کے شہر کی
فضا عجب نہیں رہی

مرے خدا ! یہ زندگی
عذاب کب نہیں رہی

لو مر گئی ہے فاختہ
وہ جاں بہ لب نہیں رہی

 

ناصر ملک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از ناصر ملک