اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

عزت اپنی اب نہیں ہے یار کو منظور ٹک

میر تقی میر کی ایک غزل

عزت اپنی اب نہیں ہے یار کو منظور ٹک
پاس جاتا ہوں تو کہتا ہے کہ بیٹھو دور ٹک

حال میرا شہر میں کہتے رہیں گے لوگ دیر
اس فسانے کے تئیں ہونے تو دو مشہور ٹک

پشت پا مارے ہیں شاہی پر گداے کوے عشق
دیکھو تم یاں کا خدا کے واسطے دستور ٹک

چاہنے کا مجھ سے بے قدرت کا کیا ہے اعتبار
عشق کرنے کو کسو کے چاہیے مقدور ٹک

حق تو سب کچھ تھا ہی ناحق جان دی کس واسطے
حوصلے سے بات کرتا کاشکے منصور ٹک

منکرحسن بتاں کیونکر نہ ہووے شیخ شہر
حق ہے اس کی اور وہ آنکھوں سے ہے معذور ٹک

پھر کہیں کیا دل لگایا میر جو ہے زرد رو
منھ پر آیا تھا ترے دو چار دن سے نور ٹک

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button