آپ کا سلاماردو غزلیاتدانش نقویشعر و شاعری

بچا لیا ہے چلو کچھ بھرم رکے ہوئے ہیں

دانش نقوی کی ایک اردو غزل

بچا لیا ہے چلو کچھ بھرم رکے ہوئے ہیں
ہمارا شکر بجا لا کہ ہم رکے ہوئے ہیں

ہمیں خوشی ہے کسی ضابطے میں آ تو گئے
چلے نہیں ہیں مگر کم سے کم رکے ہوئے ہیں

رکیں وہ جن کو خبر ہے یہیں پہ رکنا تھا
نکال دو جو برائے کرم رکے ہوئے ہیں

تمہیں حیا بھی نہیں آتی اپنے چلنے پر؟
طواف بند ہے اہل حرم رکے ہوئے ہیں

ترے علاوہ قدم تک نہیں اٹھائیں گے
رکے ہوئے ہیں،خدا کی قسم رکے ہوئے ہیں

وہیں سے آگے ہیں رستے ہمارے چلنے کے
زمانے بھر کے جہاں پر قدم رکے ہوئے ہیں

دانش نقوی

post bar salamurdu

دانش نقوی

دانش نقوی آبائی گھر گڑھ مہاراجہ حاضر سکونت خانیوال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button