آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ٹکراؤ کی سیاست کے نقصانات

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

سیاسی اختلاف فطری ہے۔ ہر قوم میں مختلف نظریات اور آراء موجود ہوتی ہیں۔ یہ اختلاف معاشرت اور حکومت کے لیے صحت مند بھی ہو سکتا ہے۔ مگر جب یہ اختلاف ٹکراؤ کی سیاست میں بدل جائے، تب نتائج سنگین اور نقصان دہ ہوتے ہیں۔ آج ہمارا ملک اسی ٹکراؤ کی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ ترقی کے راستے رک گئے ہیں۔ معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہوئی ہے۔ اور عوام کے لیے زندگی مشکل تر ہو گئی ہے۔

ٹکراؤ کی سیاست سب سے پہلے قومی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن آپس میں لڑائی اور الزام تراشی میں مشغول ہو جاتی ہیں۔ اس دوران اہم ترقیاتی منصوبے پس پشت رہ جاتے ہیں۔ سڑکیں، پل، اسکول، اسپتال اور بنیادی سہولیات متاثر ہوتی ہیں۔ عوام کی روزمرہ زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ ایسے میں ملک کی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔

معاشرتی ہم آہنگی بھی ٹکراؤ کی سیاست سے متاثر ہوتی ہے۔ سیاسی اختلافات نفرت اور گروہ بندی کو جنم دیتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے مخالف گروہوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ معاشرے میں انتشار بڑھتا ہے۔ اختلاف رائے نفرت میں بدل جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی یکجہتی کمزور ہو جاتی ہے۔

معیشت پر اثرات بھی سنگین ہیں۔ سیاسی کشیدگی سرمایہ کاری اور کاروبار کو متاثر کرتی ہے۔ بیرونی سرمایہ کار غیر مستحکم ماحول میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں۔ ملکی معیشت کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ روزگار کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ اور عام عوام کی زندگی پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔

تعلیم اور صحت کے شعبے بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ جب سیاستدان ٹکراؤ میں مشغول رہیں، تو عوام کی بنیادی ضروریات نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ اسکول اور ہسپتال وسائل کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ معیارِ تعلیم اور صحت متاثر ہوتا ہے۔ نوجوان نسل ترقی کے مواقع سے محروم رہ جاتی ہے۔

ٹکراؤ کی سیاست عدالتی نظام اور قانون کی بالادستی پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ سیاسی اختلافات اکثر عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ انصاف کی فراہمی سست ہو جاتی ہے۔ عوام کا اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔ عدالتی اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

عوام میں پیدا ہونے والی بے اعتمادی ایک اور بڑا نقصان ہے۔ لوگ سیاستدانوں کی لڑائی اور الزامات بازی دیکھ کر اداروں پر اعتماد کھو دیتے ہیں۔ یہ بے اعتمادی ہر شعبے پر اثر ڈالتی ہے۔ چاہے تعلیم ہو، صحت ہو یا معیشت۔

ٹکراؤ کی سیاست کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایک ایسا ملک جو اندرونی اختلافات اور انتشار کا شکار ہو، غیر مستحکم لگتا ہے۔ سفارتی تعلقات پر منفی اثر پڑتا ہے۔ بیرونی دنیا میں اعتماد کم ہوتا ہے۔ یہ ملکی مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔

ٹکراؤ کی سیاست کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ عوامی مسائل کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔ بجٹ، وسائل اور منصوبے سیاسی ٹکراؤ کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ عوام کی بنیادی ضروریات نظر انداز ہوتی ہیں۔ ملک کے ترقیاتی ایجنڈے متاثر ہوتے ہیں۔

وقت کی ضرورت یہ ہے کہ سیاستدان اپنے ذاتی مفادات اور اقتدار کے حصول کے لیے ٹکراؤ کی سیاست کو ترک کریں۔ عوامی بھلائی اور قومی ترقی کے لیے مل کر کام کریں۔ قوم کی تقدیر کی چابی اتحاد اور مفاہمت میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔

اگر ہم اپنی سیاست میں مفاہمت اور تعاون کو فروغ دیں، تو نہ صرف ملک ترقی کرے گا بلکہ عوام کی زندگی میں بھی بہتری آئے گی۔ نوجوان نسل کو ترقی کے مواقع ملیں گے۔ معیشت مستحکم ہوگی۔ تعلیم اور صحت کے شعبے مضبوط ہوں گے۔ سماجی ہم آہنگی بڑھے گی اور بین الاقوامی ساکھ بہتر ہوگی۔

ٹکراؤ کی سیاست کے نقصانات واضح ہیں۔ مگر ان کا حل بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یہ حل صبر، تعاون اور قومی مفاد کے لیے مل کر کام کرنے میں مضمر ہے۔ قوم کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ انتشار اور دشمنی کی راہ اختیار کرے یا ترقی، اتحاد اور امن کی راہ اپنائے۔ وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ مستقبل کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button