آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریناصر ملک

سنو! اَب بھی یہاں مَیں ہوں

ایک اردو غزل از ناصر ملک

سنو! اَب بھی یہاں مَیں ہوں
سرِ نوکِ سناں مَیں ہوں

اَنا ، مقتل ، وِچھوڑا ، غم
سبھی کا پاسباں مَیں ہوں

ستم گر بھول جاتا ہے
کہاں وہ ہے، کہاں مَیں ہوں

سنا ہے حسن کا دعویٰ
ابھی فخرِ بتاں مَیں ہوں

خبر دشتِ جنوں کی ہے
خبر کے درمیاں مَیں ہوں

 

ناصر ملک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button