آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

قومی حکمت عملی کی کمی

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

قدرتی آفات کے مقابلے میں قومی حکمت عملی کی کمی

قدرتی آفات کسی بھی قوم کے لیے ایک امتحان ہوتی ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان کا مقابلہ کس تیاری کے ساتھ کرتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر بار آفت آتی ہے، سب کچھ بہا کر لے جاتی ہے اور پھر ایک شور سا اٹھتا ہے۔ حکومتی دورے، امدادی اعلانات اور میڈیا کی ہلچل… لیکن جیسے ہی پانی اترتا ہے یا گرد و غبار بیٹھتا ہے، سب کچھ خاموشی میں دفن ہو جاتا ہے۔ یہی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے: قومی حکمت عملی کی کمی۔

سیلاب نے بارہا ہماری بستیاں اجاڑی ہیں۔ دریاؤں کے کنارے آباد کھیت، کسانوں کے ڈیرے، چھوٹے بڑے شہر اور دیہات سب پانی کی بے رحم موجوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ہر سال وہی منظر دہرایا جاتا ہے: مکان ٹوٹتے ہیں، بچے خیموں میں سوتے ہیں، مویشی ڈوب جاتے ہیں اور کھیت بنجر ہو جاتے ہیں۔ مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ سب کچھ روکا بھی جا سکتا تھا؟ اگر بروقت ڈیم بنائے جاتے، نکاسی کے نظام کو درست رکھا جاتا اور درخت بچائے جاتے تو شاید یہ تباہی اتنی بڑی نہ ہوتی۔

یہ صرف سیلاب کی کہانی نہیں۔ کبھی زلزلے زمین ہلا دیتے ہیں، کبھی خشک سالی کسان کی محنت کو چھین لیتی ہے، کبھی شدید گرمی اور سردی جانیں نگل لیتی ہے۔ یہ سب آفات دوسرے ممالک کو بھی پیش آتی ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ وہاں منصوبہ بندی ہوتی ہے، ادارے فعال ہوتے ہیں اور حکومتیں اپنی قوم کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتیں۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہر آفت کے بعد ہم صرف نوحہ لکھتے ہیں اور پھر سب کچھ بھول جاتے ہیں۔

سیلاب کے متاثرین آج بھی حکومت کے وعدوں کے منتظر ہیں۔ کسان سوچتا ہے کہ وہ کھیت دوبارہ کیسے آباد کرے جب بیج اور کھاد کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں؟ مزدور پریشان ہے کہ روزگار کہاں سے لائے جب اس کی بستی ہی ڈوب چکی ہو؟ یہ صرف ایک علاقے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی کہانی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم قدرتی آفات کو محض حادثہ نہ سمجھیں بلکہ ایک حقیقت مان کر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی بنائیں۔ چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر، نکاسی کے جدید نظام، شجر کاری اور ماحولیاتی تحفظ کو قومی ایجنڈے میں سب سے اوپر رکھنا ہوگا۔ صرف وقتی امداد یا فوٹو سیشن سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، اصل علاج مستقل منصوبہ بندی ہے۔

قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن ان کی تباہ کاری کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر اب بھی ہم نے اپنی پالیسی کو محض بیانات اور وعدوں تک محدود رکھا تو آنے والا ہر سیلاب اور ہر زلزلہ ہمیں اسی طرح رُلاتا رہے گا۔ آفات ہمیشہ امتحان لاتی ہیں، اصل کامیابی ان کا مقابلہ کرنے کی تیاری میں ہے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button