اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

ہر داغ ہے داغ زندگی کا

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

ہر داغ ہے داغ زندگی کا
کس کو ہے دماغ زندگی کا

دیتے رہے لو بہار کے زخم
جلتا رہا باغ زندگی کا

کس کس کے جگر کا داغ بن کر
جلتا ہے چراغ زندگی کا

کچھ آپ کی انجمن میں آ کر
ملتا ہے سراغ زندگی کا

پوچھو نہ مآل شوق باقیؔ
دل بن گیا داغ زندگی کا

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button