کوئی اُس جیسا پیارا بھی نہیں ہو سکتا
درد یہ ہے، وہ ہمارا بھی نہیں ہو سکتا
وہ مرے دل میں تو رہتا ہے، مقدر میں نہیں
اس کے بن دل کا گزارا بھی نہیں ہو سکتا
وہ مجھے بھول گیا، دل کو یقیں کیسے آئے
اس کی یادوں سے کنارا بھی نہیں ہو سکتا
مدتوں سے ترستا ہوں ترے دیدار کو
کیا ترا ایک نظارا بھی نہیں ہو سکتا؟
اس کی الفت میں کئی شعر کہے ہیں میں نے
وہ مرے غم کا سہارا بھی نہیں ہو سکتا
اس کی یادوں میں جوانی بھی گنوا دی میں نے
اس سے بڑھ کر تو خسارا بھی نہیں ہو سکتا
حسنؔ، خوابوں میں وہ آتا ہے، مگر کیا کیجے
خواب میں آ کے ہمارا بھی نہیں ہو سکتا
میر حسن







