آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمیر حسن

کوئی اُس جیسا پیارا بھی نہیں ہو سکتا

میر حسن کی ایک اردو غزل

کوئی اُس جیسا پیارا بھی نہیں ہو سکتا
درد یہ ہے، وہ ہمارا بھی نہیں ہو سکتا

وہ مرے دل میں تو رہتا ہے، مقدر میں نہیں
اس کے بن دل کا گزارا بھی نہیں ہو سکتا

وہ مجھے بھول گیا، دل کو یقیں کیسے آئے
اس کی یادوں سے کنارا بھی نہیں ہو سکتا

مدتوں سے ترستا ہوں ترے دیدار کو
کیا ترا ایک نظارا بھی نہیں ہو سکتا؟

اس کی الفت میں کئی شعر کہے ہیں میں نے
وہ مرے غم کا سہارا بھی نہیں ہو سکتا

اس کی یادوں میں جوانی بھی گنوا دی میں نے
اس سے بڑھ کر تو خسارا بھی نہیں ہو سکتا

حسنؔ، خوابوں میں وہ آتا ہے، مگر کیا کیجے
خواب میں آ کے ہمارا بھی نہیں ہو سکتا

میر حسن

post bar salamurdu

میر حسن

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا ہی انتخاب ہے، تعلق منڈی بہاؤالدین، پنجاب سے ہے۔مادری زبان پنجابی ہے، مگر اردو سے بھی محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button