راز کیا کیا ہیں مرے دل میں سناؤں کیسے
زخم کس کس نے دئے ہیں یہ بتاؤں کیسے
تیری یادیں مجھے بے چین تو کرتی ہیں مگر
اپنے دل کو میں کہیں اور لگاؤں کیسے
تیری آنکھوں میں نظر آتا ہے سب کچھ مجھ کو
تیری آنکھوں سے نگاہوں کو ہٹاؤں کیسے
سب رقیبوں نے مجھے گھیر رکھا ہے جاناں
اپنی جانب میں بلاؤں تو بلاؤں کیسے
صبح ہونے پہ بھی سورج کا نہیں نام و نشاں
میں امیدوں کے چراغوں کو بجھاؤں کیسے
علمہ ہاشمی








