اردو غزلیاتشعر و شاعریگلزار

مجھے اندھیرے میں بیشک

گلزار کی ایک اردو غزل

مجھے اندھیرے میں بیشک بٹھا دیا ہوتا

مگر چراغ کی صورت جلا دیا ہوتا

نہ روشنی کوئی آتی مرے تعاقب میں

جو اپنے آپ کو مَیں نے بجھا دیا ہوتا

بہت شدید تھے یارب مرے وجود کے زخم

مجھے صلیب پہ دو پل سُلا دیا ہوتا

ہر ایک سمت تشدد ہے ، بربریت ہے

کبھی تو اس پہ بھی پردہ گرا دیا ہوتا

یہ شکر ہے کہ مرے پاس تیرا غم تو رہا

وگر نہ زندگی بھر کو رُلا دیا ہوتا

 

گلزار

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button