آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفرحانہ عنبر

خواب سہانے بیچ رہی ہوں

ایک اردو غزل از فرحانہ عنبر

خواب سہانے بیچ رہی ہوں
گیت پرانے بیچ رہی ہوں

ٹوٹی آس امید کے ٹکڑے
دو دو آنے بیچ رہی ہوں

غزلوں کا بیوپار کیا ہے
اور کچھ گانے بیچ رہی ہوں

میں ہوں مالک بس اک پل کی
اور زمانے بیچ رہی ہوں

کوئی میری آنکھیں لے لے
یہ میخانے بیچ رہی ہوں

میرے اپنے ہاتھ ہیں ٹھٹھرے
اور دستانے بیچ رہی ہوں

خوشیوں کے بازار میں عنبر
اشک خزانے بیچ رہی ہوں

فرحانہ عنبر

post bar salamurdu

فرحانہ عنبر

نام۔۔فرحانہ عنبر شہر۔۔۔گوجرانوالہ شاعری وراثت میں ملی میرے دادا نصیر احمد ناصر بہت اچھے شاعر تھے۔ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق ہے ۔ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں کہتی ہوں اور اپنا کلام ترنم میں بھی پیش کرتی ہوں۔ بچپن سے نعت ،حمڈ،منقبت ،غزل گانا سب میں رول پلے کرتی رہی ہوں اور بے شمار انعامات حاصل کر چکی ہوں۔ آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن سے شان پاکستان ایورڈ اور بہت سے دوسرے ایوارڈ حاصل کیے۔ تین انتخاب آ چکے ہیں حسن انتخاب دشت دروں سانجھیاں سوچاں ایک شعری مجموعہ ۔۔چلے آو نا۔۔۔پچھلے سال منظر عام پر آیا ۔ دوسرا شعری مجموعہ۔۔۔میری آنکھیں نہیں ستارے ہیں۔۔۔پروف ریڈنگ کے مرحلے میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button