آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعمران ہاشمی

حیرت بھر کر آنکھوں میں رہ جاتے ہیں

عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل

حیرت بھر کر آنکھوں میں رہ جاتے ہیں
سپنے خالی جیبوں میں رہ جاتے ہیں

تعبیروں کے روز جنازے اُٹھتے ہیں
آنکھوں والے خوابوں میں رہ جاتے ہیں

ڈھل جاتے ہیں پھر اک بار کٹھالی میں
جذبے کھوٹے سکّوں میں رہ جاتے ہیں

بازاروں میں اور ہی قصّے چلتے ہیں
شاعر غزلوں نظموں میں رہ جاتے ہیں

موڑ، کہانی اور کوئی مُڑ جاتی ہے
ہم اپنے اندازوں میں رہ جاتے ہیں

منزل سے کوئی اور وصال مناتا ہے
ہم راہوں کی بانہوں میں رہ جاتے ہیں

عمران ہاشمی

post bar salamurdu

عمران ہاشمی

شاعر، افسانہ نگار، کالمسٹ - شعری مجموعہ ’’عکسِ جاں‘‘۲۰۱۱ - ادبی وابستگی: حلقہ اربابِ ذوق گوجرانوالہ - انجمن ترقی پسند مصنفین گوجرانوالہ و پنجاب - آغازِ شاعری 2001 - مینجنگ ڈائریکٹر: عامی پرنٹنگ پریس گوجرانوالہ - بن ہاشم پبلیکیشنز گوجرانوالہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button