اردو غزلیاتاکرام عارفیشعر و شاعری

ہم جیسوں کا خیال کسی نے نہیں کیا

اکرام عارفی کی ایک اردو غزل

ہم جیسوں کا خیال کسی نے نہیں کیا
اس بات کا ملال کسی نے نہیں کیا

ہوتی رہی ہیں جن کی طرف سے عنایتیں
درویش کو نہال کسی نے نہیں کیا

سب لوگ منتظر ہیں کہ دروازہ کچھ کہے
دیوار سے سوال کسی نے نہیں کیا

تسخیر تو کیا ہے کسی کے جمال نے
پابند خد و خال کسی نے نہیں کیا

بے مثل کی مثال اگر دی تو ہم نے دی
یہ کار بے مثال کسی نے نہیں کیا

چارہ گران زخم کو پھر بھی مرا سلام
حالانکہ اندمال کسی نے نہیں کیا

اکرامؔ شام ہجر گزرنے کے باوجود
شرمندۂ وصال کسی نے نہیں کیا

اکرام عارفی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button