ہم جیسوں کا خیال کسی نے نہیں کیا
اس بات کا ملال کسی نے نہیں کیا
ہوتی رہی ہیں جن کی طرف سے عنایتیں
درویش کو نہال کسی نے نہیں کیا
سب لوگ منتظر ہیں کہ دروازہ کچھ کہے
دیوار سے سوال کسی نے نہیں کیا
تسخیر تو کیا ہے کسی کے جمال نے
پابند خد و خال کسی نے نہیں کیا
بے مثل کی مثال اگر دی تو ہم نے دی
یہ کار بے مثال کسی نے نہیں کیا
چارہ گران زخم کو پھر بھی مرا سلام
حالانکہ اندمال کسی نے نہیں کیا
اکرامؔ شام ہجر گزرنے کے باوجود
شرمندۂ وصال کسی نے نہیں کیا
اکرام عارفی








