- Advertisement -

ہر عورت کے نام

از قلم فرح عباسی

ہر عورت کے نام

عورت جسم ہے یا انسان ہے
احساس رکھتی ہے کہ کھلونا ہوتی ہے

عورت وہ ہے جس (فاطمہ ) کے لئے نبی,.ﷺ کھڑے ہو جائیں
عورت وہ جو عائشہ جس کا شوہر اسے بے پناہ چاہے
اتنا چاہا ہے اتنا چاہے کہ اس کے باپ سے بھی محبت کرے

عورت وہ جس کے لئے اللہ پوری سورت اتار دے
عورت وہ جو رابعہ بصری
عورت وہ جو زینب
عورت وہ جو مریم مختیار

لیکن یہ آج کی عورت کیسی ہے
مردوں کی ہوس کی ماری ہے
مردوں کی نظروں کی شکاری
مردوں کے ستم کی ماری

بیٹی ماں بیوی ہر روپ میں پس رہی ہے
وہ گھر سمبھالے کمائے جو بھی کرے اس کے حصے میں طعنے آئے اس ظالم سماج کے ظالم مردوں کے

بچی جوان ماں بیٹی بیوی کیا یہی ہے عورت
یا پھر جسم کا مجسمہ
جس کی اپنی کوئی ذات نہیں
جو مرد کی غلام ہے

عورت ایسی تو نہ تھی
یہ عورت دین اسلام والی عورت تو نہیں
اس کا رتبہ تو بہت عظیم تھا
وہ باشعور باعزت اور باوقار تھی

یہ آج کے مردوں کی گندی سوچ کی گری ہوئی عورت ہے
کون ہے ذمہ دار کون ہے ذمہ دار کون
عورتیں خود یا پھر خاندانی مرد

وہ جو اپنے خاندان میں باوقار زندگی گزار رہے ہوتے ہیں
جو عورت کو سر بازار نیلام کر دیتے ہیں
لیکن سنو
عورت وہ ہستی جسے رب نے آدم کی پسلی سے بنایا وہ نازک پھول جس کو آج کا آدمی مسلل رہا ہے
اپنی ہوس کی نظر کر رہا ہے

وہ ہستی جس کو رب نے وراثت میں حصہ دیا
تو جب حق نہ ملنے پر مانگا تو کیا غلط کیا

کیوں باغی کہا
کیوں نافرمان کہا
کیوں پرایا کیا

کتنے حق مارو گے اس کے کتنے ارمانوں کا قتل کرو گے کتنا دباؤ گے اسے
تمہیں عورت کی آہ لگے گی
بیٹی ماں بہن بہو بیوی
یہی تمھارا گریبان پکڑیں گی
اے خاندانی مرد
افسوس صد افسوس
کون ہے ذمہ دار کون

میں یا تم

از قلم فرح عباسی💕

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ستیا پال آنند کی ایک اردو نظم