سیلاب اور ہماری سماجی ذمہ داریاں
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
پاکستان ایک بار پھر پانی کے سمندر میں ڈوب رہا ہے۔ یہ منظر ہم میں سے ہر ایک کے سامنے ہے: گاؤں اجڑ رہے ہیں، شہر جل تھل ہو گئے ہیں، بچے بلک رہے ہیں، مائیں دہائی دے رہی ہیں، اور کسان اپنی فصلوں کو بہتے پانی میں دیکھ کر اپنے ہاتھ سر پر رکھ کر بیٹھ گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم سب تماشائی ہیں؟ کیا ہم صرف اس قیامت کو ٹی وی سکرینوں اور موبائل فون کی ویڈیوز میں دیکھ کر آگے بڑھ جائیں گے؟ یا پھر اس بار ہم بطور قوم وہ ذمہ داری نبھائیں گے جس کی کسر ہمیشہ رہ جاتی ہے؟
آج پنجاب کے دریا اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ چناب، راوی اور ستلج نے اپنے کنارے توڑ ڈالے ہیں۔ ماہرین اسے پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب قرار دے رہے ہیں۔ صرف اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو دل دہل جاتا ہے: دو ملین سے زائد انسان متاثر، سات لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے بے دخل، دو ہزار سے زائد دیہات زیرِ آب، درجنوں ہلاکتیں اور سیکڑوں زخمی۔ لاہور اور پشاور جیسے بڑے شہر بارشوں اور سیلابی پانی کی زد میں ہیں۔ چھتیں گر رہی ہیں، سڑکیں بہہ رہی ہیں، اسپتال زیرِ آب ہیں۔ بونیر میں ایک ہی دن کے اندر نایاب "کلاؤڈ برسٹ” نے تین سو سے زائد زندگیاں چھین لیں۔ گلگت بلتستان میں گلیشئر لیک پھٹنے سے بستیاں اجڑ گئیں۔ یہ صرف خبر نہیں، یہ انسانی المیے ہیں۔ یہ وہ صدائیں ہیں جو ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔
ہر طرف تباہی کا ایک منظرنامہ ہے۔ ایک طرف وہ کسان ہے جس نے سارا سال پسینہ بہا کر زمین کو سنوارا، اور اب کھڑے کھڑے اپنی محنت کو پانی میں ڈوبتے دیکھ رہا ہے۔ دوسری طرف وہ ماں ہے جس کے بچے خیمے کے اندر بھوک اور بیماری کے ہاتھوں بلک رہے ہیں۔ وہ بچی جس نے پہلی بار اسکول جانے کا خواب دیکھا تھا، اب مٹی کے ڈھیر پر بیٹھی ہے، اس کی کتابیں پانی لے گیا۔ وہ نوجوان جو مستقبل کا سہارا تھا، اب اپنے والدین کی لاشیں کندھوں پر اٹھائے رو رہا ہے۔ یہ سب صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ کہانیاں ہیں، یہ کرب ہیں، یہ چیخیں ہیں۔
ایسے میں سوال یہ نہیں کہ حکومت کیا کر رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم بطور معاشرہ کیا کر رہے ہیں۔ حکومت اپنی بساط کے مطابق ریسکیو آپریشن کر رہی ہے، فوج اور رینجرز کے جوان کمر بستہ ہیں، امدادی سامان بانٹا جا رہا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ متاثرین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ حکومتی کوششیں ناکافی محسوس ہوتی ہیں۔ اگر اس وقت ہم نے بطور قوم اپنی ذمہ داری نہ سمجھی تو آنے والے دنوں میں یہ آفت اور بڑی شکل اختیار کر لے گی۔
ہماری سب سے بڑی کمزوری ہماری بے حسی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ یہ سب دیکھ کر افسوس کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر ہمدردی کے چند جملے لکھ دیتے ہیں، تصویریں شیئر کر کے سکون محسوس کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ متاثرین کو تصویری ہمدردی کی ضرورت نہیں، انہیں عملی مدد چاہیے۔ انہیں خیمے چاہئیں، راشن چاہیے، صاف پانی چاہیے، دوائیں چاہیے۔ ایک ماں کے لیے اپنے بچوں کو بھوکا دیکھنا سب سے بڑی اذیت ہے۔ کیا ہم یہ اذیت برداشت کر سکتے ہیں کہ ہمارے ہم وطن ایسے حالات میں ہوں اور ہم خاموش رہیں؟
یہ وقت ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کو پہچانیں۔ اگر ہم صاحبِ حیثیت ہیں تو ہمیں دل کھول کر عطیات دینے چاہئیں۔ اگر ہم متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں تو ہم کپڑے، خشک راشن، بستر یا ادویات اکٹھے کر کے کسی امدادی کیمپ تک پہنچا سکتے ہیں۔ نوجوان اپنی توانائیاں بطور رضاکار استعمال کریں۔ مساجد، مدارس، تعلیمی ادارے اور فلاحی تنظیمیں آگے بڑھیں۔ میڈیا صرف دکھانے پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی طور پر بھی عوامی شعور کو جگائے۔ کاروباری طبقے کو چاہیے کہ وقتی منافع بھول کر انسانیت کے منافع پر سرمایہ کاری کرے۔
تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جو قومیں آفات میں ایک دوسرے کا سہارا بنتی ہیں، وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرتی ہیں۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 کا سیلاب، جب عوام نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا تو ہزاروں زندگیاں بچ گئیں۔ لیکن جب ہم نے لاپرواہی برتی، تو انسانی المیے نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا۔ اگر آج ہم نے پھر وہی بے حسی دکھائی تو آنے والے کل میں صرف متاثرین نہیں بلکہ ہم سب اس کے اثرات بھگتیں گے۔ غربت بڑھے گی، بے روزگاری پھیلے گی، بیماریوں کا جال مزید وسیع ہو گا اور سماجی انتشار میں اضافہ ہو گا۔
سیلاب صرف ایک قدرتی آفت نہیں ہے، یہ ایک آئینہ بھی ہے۔ یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ ہم نے زمین کے ساتھ کیا کیا۔ جنگلات کاٹ دیے، دریاؤں کے کناروں پر ناجائز آبادیاں بسائیں، نکاسیٔ آب کے نظام کو نظر انداز کیا۔ ماحولیاتی تبدیلی ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے اور ہم ابھی تک کان لپیٹے بیٹھے ہیں۔ یہ سیلاب ہماری اجتماعی غفلت کی سزا بھی ہے۔ اس سزا کو کم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے رویے بدلیں۔
انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہم دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں۔ عبادت صرف مسجدوں میں نہیں، بلکہ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی بے سہارا کو چھت دینا، کسی بیمار کو دوا پہنچانا بھی سب سے بڑی عبادت ہے۔ یہ وہ نیکی ہے جو نہ صرف دنیا میں انسانیت کو سنوارتی ہے بلکہ آخرت کے سفر میں بھی چراغ بنتی ہے۔
آج اگر ہم نے سیلاب متاثرین کی مدد کر دی تو کل جب ہم خود کسی آزمائش سے گزریں گے تو انسانیت ہمیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ یہ وقت ہمدردی کے نعرے لگانے کا نہیں، بلکہ عملی کردار ادا کرنے کا ہے۔ یاد رکھیں، قومیں آفات سے نہیں مرتیں، وہ بے حسی، نااتفاقی اور تقسیم سے ختم ہو جاتی ہیں۔
پاکستان میں آئے سیلاب نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ دولت اور آسائش سب عارضی ہیں۔ اصل دولت وہ ہے جو ہم دوسروں پر خرچ کریں۔ اصل عبادت وہ ہے جو انسانیت کے لیے ہو۔ اگر ہم نے آج اپنے ہم وطنوں کا ہاتھ تھام لیا تو کل ہمیں کبھی مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
یوسف صدیقی







