اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

بہت مدت گئی ہے اب ٹک آ مل

میر تقی میر کی ایک غزل

بہت مدت گئی ہے اب ٹک آ مل
کہاں تک خاک میں میں تو گیا مل

ٹک اس بے رنگ کے نیرنگ تو دیکھ
ہوا ہر رنگ میں جوں آب شامل

نہیں بھاتا ترا مجلس کا ملنا
ملے تو ہم سے تو سب سے جدا مل

غنیمت جان فرصت آج کے دن
سحر کیا جانے کیا ہو شب ہے حامل

اگرچہ ہم نہیں ملنے کے لائق
کسو تو طرح ہم سے بھی بھلا مل

لیا زاہد نے جام بادہ کف پر
بحمد اللہ کھلا عقد انامل

وہی پہنچے تو پہنچے آپ ہم تک
نہ یاں طالع رسا نے جذب کامل

ہوا دل عشق کی سختی سے ویراں
ملائم چاہیے تھا یاں کا عامل

پس از مدت سفر سے آئے ہیں میر
گئیں وہ اگلی باتیں تو ہی جا مل

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button