اردو تحاریرتحقیق و تنقیدڈاکٹر وحید احمد

دارا شکوہ

ڈاکٹر وحید احمد کی اردو تحریر

رباعی میں دارا شکوہ (1659-1615) کو مغلِ اعظم شہزادہ دارا شکوہ کہتا ہے۔daara shakoh یہ وہی دارا شکوہ ہے جو اورنگ زیب کا بڑا بھائی، اپنے باپ شاہجہاں کا لاڈلا اور اپنی بہن جہاں آراء کا چہیتا تھا۔ ہر لحاظ سے ولی عہد اور ہر معیار سے شاہ جہاں کا جان نشین تھا۔ صرف 44 سال زندہ رہنے دیا اس شہزادے کو۔ یہ وہی دارا شکوہ ہے جسے اورنگ زیب نے بے دردی سے قتل کروایا۔ اس کے کٹے ہوئے سر پر اپنی تلوار سےaadil aseer تین وار کئے۔ یہی نہیں پھر اس کا مسخ شدہ سر طشت میں دھر کے اپنے اور دارا کے باپ شاہ جہاں کو کھانے کی رکابیوں کے بیچ رکھ کر تحفے میں بھیجا۔ وہ بیمار شاہجہاں جسے اورنگ زیب نے اس قلعے میں قید کر رکھا تھا جس کے جھروکے سے تاج محل نظر آتا تھا۔ وہ تاج محل جو شاہ جہاں نے بنوایا تھا۔
وہ اورنگ زیب جسے ہمارے اکثر لوگ درویش بادشاہ کہتے ہیں، دراصل مغلیہ سلطنت کا ضیاءالحق تھا۔ وہ خونی اور درندہ صفت شخص جس نے دانش ور شہزادہ مارا۔ اس نے صرف بھائی کا سر نہیں کاٹا بلکہ اس ناعاقبت اندیش نے اس عہد کی دانش کا سر قلم کیا۔ ایک برادرِ دارا تمام برادرانِ یوسف پر بھاری ہے۔
اگر دارا شکوہ بادشاہ بنتا تو وہ بےمثال حکمران ہوتا، فلاسفر کِنگ، جس کا خواب افلاطون نے دیکھا اور اپنی مشہور کتاب "رپبلک” کا موضوع بنایا۔
دارا شکوہ وہ سجیلا جوان تھا جس پر شہزادے کا لفظ زیبا تھا۔ وہ فنونِ لطیفہ کا پروردہ، علم و ادب کا دلدادہ اور شعر وسخن کا سرپرست تھا۔ وہ شاندار شاعر اور صوفی منش انسان تھا۔ اس کی تصنیف "مجمع البحرین” اسلامی تصوف کو ہندو اور جین نروانی دھیان کے ساتھ دو سمندروں کی طرح دکھاتی ہے۔ اس کا صوفی نامہ برصغیر میں تصوف کی کتابوں میں درخشاں تحریر ہے۔ عمر خیام کی رباعیوں کے ساتھ دارا شکوہ کی رباعیاں پڑھیں تو مضمون آفرینی کے ترفع کے ساتھ عروض کی کوئی لغزش نظر نہیں آتی وہ لغزش جس سے بڑے بڑے اساتذہ مستثنیٰ نہیں ہیں۔ اردو ادب پر مغلیہ دور کے سب سے زیادہ اثرات لاشعوری طور پر دارا شکوہ نے مرتب کئے ہیں۔ مگر اس حقیقت کو مورخین مانتے ہیں نہ نقاد۔ ہم بس تزکِ بابری، تزکِ جہانگیری، اکبر کے نو رتن اور بہادر شاہ ظفر کے دیوان کا تذکرہ کرتے ہیں۔ کبھی کبھی زیبِ داستاں کے لئے ظہیرالدین بابر یا کچھ مغلیہ شہزادوں اور شہزادیوں کے اشعار سنا دیتے ہیں۔ دارا شکوہ کی بات رسمی طور پر کبھی کبھی کرتے ہیں اور دانستہ ایسا کرتے ہیں۔ ہم تاریخ سے رُو گردانی کرتے ہیں۔ چشم پوشی کرتے ہیں۔ ہمیں آنے والی نسلوں کو درست تاریخ پڑھانی چاہئیے۔
میں نے دارا شکوہ کی ایک فارسی رباعی کا اردو رباعی میں ترجمہ کر کے اپنے محبوب شہزادے کو نذرانہء محبت پیش کیا ہے۔
ملاحظہ فرمائیے
خواہی کہ شوی داخلِ اربابِ نظر
از قال بحال بایدت کرد گزر
از گفتنِ توحید موحد نہ شوی
شیریں نشود دہانت، از نامِ شکر
(دارا شکوہ)
خواہش ہے کہ شامل ہو بہ اربابِ نظر؟
کر قال سے پھر حال کی منزل کو سفر
توحید بیاں کوئی موحد نہیں ہے
شیریں نہ ہوا ذائقہ کہنے سے شکر

وحید احمد
یکم اگست 2026

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button