اردو غزلیاتشعر و شاعریناہید ورک

چاندنی بن کے جب اُس چاند کا سایہ نکلے

ناہید ورک کی اردو غزل

چاندنی بن کے جب اُس چاند کا سایہ نکلے
گُلشنِ جاں سے مرے خوشبو کا جھونکا نکلے
بند ہوں پلکیں تو احساس کی خوشبو جاگے
اور وا ہوں تو تصوّر کا کرشمہ نکلے
تیرے آتے ہی اندھیروں سے اُجالے جاگیں
تیرے جاتے ہی اُجالوں سے اندھیرا نکلے
کانپتا ہے مرے ہاتھوں پہ ترے ہاتھ کا لمس
پھر یقیں پر وہی انداز گماں کا نکلے
میں ہوں بجھتے ہوئے سورج کی کوئی زرد لکیر
جاگے تو دن ڈھلے سوئے تو اندھیرا نکلے
اپنے ہی ہاتھوں کہاں تک یونہی مرتی رہوں میں
اپنے ہی کندھوں پہ کب تک یہ جنازہ نکلے
کوئی اندھا، کوئی بہرا، کوئی گونگا ناہید
صنم اِس خانۂ دل کے مرے کیا کیا نکلے

ناہید ورک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button