اردو نظمایوب خاورشعر و شاعری

تُم قیدی ہو

ایوب خاور کی اردو نظم

تم قیدی ہو
تم اپنے خواب کے قیدی ہو
تم خواب میں آئینے کے خواب میں چلتے ہو
اور آئنہ
ترے عکسوں کی سوغات لیے
کئی رنگ بدلتا جاتا ہے
کوئی قوسِ قزح
کوئی رقصِ ہوا
کوئی دل کی گرہ کھلتی ہی نہیں
تری سبز کرامت آنکھوں میں
یہ جو دُور تلک اِک سرد سی خاموشی کا جادو تیرتا ہے
تم اُس جادو کی قید میں ہو
مجھے جادو توڑنا آتا ہے
آئینہ جوڑنا آتا ہے
مجھے اپنی ذات کی چوکھٹ تک تو آنے دو
جادو سے بوجھل پلکوں کا کچھ بوجھ تو ہلکا کرنے دو
یہ جو آپ ہی آپ چھلک پڑتی ہیں
اِ ن آنکھوں میں
اسمِ محبت کی تاثیر تو بھرنے دو
مجھے اپنی ذات کے خواب میں زینہ وار اُترنے دو

ایوب خاور 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button