اردو نظمشعر و شاعریفرزانہ نیناں

گہر ساز

فرزانہ نیناں کی اردو نظم

گہر ساز

سنہرے بالوں کی نرم خوشبو
جو شبنمی موتیوں سے تم نے ، سلگ سلگ کر اتار دی ہے
اداسیوں کے مچلتے جھمکوں، کی آب کتنی سنوار دی ہے
جلا کے کندن کا ہار کی ہے
وہ شوخ گردن کے گرد ،اب تک
تمھارے ریشم سے لمس دھاگوں کی گرہیں ،بنتی ہی جا رہی ہے
نجانے کب سے بلا رہی ہے
بلا رہی ہی، بلا رہی ہی،بہت ہی وہمی ،بہت ہی سہمی
مجھے گہر ساز توڑ دے گا،
سوال یہ سرسرا رہا ہے !
اور ایسا اک دن اگر ہوا تو
تمہاری مندری کے تن کا ہیرا
تمہاری سونا تو چاٹ لے گی۔۔۔!!!

فرزانہ نیناں

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button