ساغر صدیقی
ساغر صدیقی1928ءانبالہ بھارت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا بچپن سہارنپور اور انبالہ میں گزرا ۔ساغر صدیقی کا اصل نام محمداختر شاہ تھا اور وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے ۔
ساغر صدیقی نے ایک مرتبہ کہا تھا:
"میری ماں دلی کی تھی، باپ پٹیالے کا، پیدا امرتسر میں ہوا، زندگی لاہور میں گزاری! میں بھی عجیب چوں چوں کا مربّہ ہوں”
اس قول میں صرف ایک معمولی غلطی کے سوا اور سب سچ ہے۔”
ساغر کو اپنے اکلوتے ہونے کا بھی بہت رنج تھا، وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ
"میں نے دنیا میں خداوندِ رحیم و کریم سے بہن بھائی کا عطیہ بھی نہیں پایا۔ یہ معلوم نہیں کہ خدا کو اِس تنہائی سے یگانہ بنانا مقصود تھا یا بیگانہ؟ بہر حال شاید میری تسکینِ قلبی کے لئے کسی کا نام بھائی رکھ دیا گیا ہوجو سراسر غلط ہے۔ دنیا کی چھ سمتوں پہ نظر رکھنے والے صاحبِ فراست لاہور کی سڑکوں پر مجھے جب چاہیں ٹوٹا ہوا بازو کالی چادر میں چھپائے، احساس کے الٹے پاؤں سے چلتا پھرتا دیکھ سکتے ہیں۔اگر کوئی بہن بھائی ہوتا تو یہ حال نہ ہوتا۔”
ساغر کے شعری مجموعوں میں غمِ بہار، زہرِ آرزو، لوحِ جنوں، شبِ آگہی اور سبز گنبد شامل ہیں۔
ساغر صدیقی کہا کرتے تھے کہ "لاہور میں بہت قیمتی خزانے دفن ہیں مگر انہیں آسانی سے تلاش نہیں کیا سکتا ۔” اور بے شک ساغر صدیقی بھی انہی خزانوں میں سے ایک ہیں۔
-

چراغِ طور جلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے
ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
-

زخمِ دل پر بہار دیکھا ہے
ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
-

آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے
ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
-

مرے سوزِ دل کے جلوے یہ مکاں مکاں اجالے
ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
-

راہزن آدمی راہنما آدمی
ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
-

چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند
ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
-

ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں
ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
-

میں التفاتِ یار کا قائل نہیں ہوں دوست
ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
-

دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
-

آ جا کہ انتظار ِ نظر ہیں کبھی سے ہم
ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
-

بات پھولوں کی سنا کرتے تھے
ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

