حکیم ناصر
حکیم ناصر 1947ء میں ہندوستان کے شہر اجمیر میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد نصیر الدین ندوی اور دادا بھی حکمت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ اپنے والدین کے ساتھ پاکستان آ گئے اور کراچی میں رہائش اختیار کی۔اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے ہمدرد طبیہ کالج کراچی سے حکمت کا چار سالہ کورس کیا اور کراچی میں برنس روڈ پر اپنا مطب نظامی دوا خانہ سنبھالا۔مریض دیکھنے کے ساتھ ساتھ شاعری کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ حکیم ناصر نے غزلیں بھی کہیں اوربہت سے گیت بھی لکھے۔ ان کے لکھے ہوئے کئی گیت مشہور گلوکار عالمگیر نے گائے جو بہت مقبول ہوئے۔ "جب سے تُو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے” ان کی سب سے مشہور غزل ہے جسے عابدہ پروین نے گایا تھا۔
حکیم ناصر کی شاعری کے دو مجموعے
"جب سے تُو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے” اور
"تم تو نہ مل سکے” کے نام سے شائع ہوئے۔
-

چھوٹی سی ایک عرض ہے
ایک مشہور غزل از حکیم ناصر
-

آنکھوں نے حال کہہ دیا
ایک غزل از حکیم ناصر
-

جب بھی جلے گی شمع
ایک غزل از حکیم ناصر
-

اس راہ محبت میں تو آزار ملے ہیں
ایک غزل از حکیم ناصر
-

مےکشی گردش ایام سے
ایک غزل از حکیم ناصر
-

کبھی وہ ہاتھ نہ آیا ہواؤں جیسا ہے
ایک غزل از حکیم ناصر
-

اے دوست کہیں تجھ پہ بھی
ایک غزل از حکیم ناصر
-

ہائے وہ وقت جدائی کے ہمارے آنسو
ایک غزل از حکیم ناصر
-

عشق کر کے دیکھ لی
ایک مشہور غزل از حکیم ناصر
-

زندگی کو نہ بنا لیں وہ سزا میرے بعد
ایک غزل از حکیم ناصر
-

جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
ایک مشہور غزل از حکیم ناصر