اردو غزلیاتساغر صدیقیشعر و شاعری

اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی

ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی

ہر روش پر نکہتوں کی آبرو جلنے لگی

پھر لغاتِ زندگی کو دو کوئی حرفِ جُنوں

اے خرد مندو! ادائے گفتگو جلنے لگی

قصرِ آدابِ محبت میں چراغاں ہو گیا

ایک شمعِ نو ورائے ما و تو جلنے لگی

ہر طرف لُٹنے لگی ہیں جگمگاتی عصمتیں

عظمت انسانیت پھر چارسُو جلنے لگی

دے کوئی چھینٹا شراب ارغواں کا ساقیا

پھر گھٹا اُٹھی تمنّائے سبُو جلنے لگی

اِک ستارہ ٹوٹ کر معبودِ ظلمت بن گیا

اِک تجلّی آئینے کے رُو برُو جلنے لگی

دیکھنا ساغرخرامِ یار کی نیرنگیاں

آج پھُولوں میں بھی پروانوں کی خُو جلنے لگی

ساغر صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button