سود خوری سے بچو ، سب کو بچانا چاہیے
رزق کو اچھے طریقے سے کمانا چاہیے
دودھ میں پانی نہیں اتنا ملانا چاہیے
یہ سبق امت کو دوبارہ پڑھانا چاہیے
اس طرح سے جشنِ آزادی منانا چاہیے
علم کی دولت کو دل میں یوں بسانا چاہیے
ہر گلی کوچے میں مکتب اب کُھلانا چاہیے
جہل و نفرت کے اندھیروں کو مٹانا چاہیے
دوستی ،الفت کے رشتے کو نبھانا چاہیے
اس طرح سے جشنِ آزادی منانا چاہیے
ساری دنیا نے تو پاکستاں کی ہمت دیکھ لی
دی شکستِ فاش دشمن کو ، کہ حکمت دیکھ لی
لا الہ دل سے پڑھا تو اپنی قسمت دیکھ لی
اپنا سینہ تان کر دشمن بھگانا چاہیے
اس طرح سے جشنِ آزادی منانا چاہیے
سبزہ و گل ، سرو و سنبل، نرگس و ریحاں یہاں
جھیل و دریا اور پہاڑوں کی نرالی بولیاں
چڑیاں ، بلبل ، کوئلیں رب کی کریں حمدو ثناء
صرف رب کی نعمتوں کا شکر لانا چاہئے
اس طرح سے جشنِ آزادی منانا چاہیے
یاں کی بستی ہے ہمیں دل کے نگر سے عزیز
ہے چمکتی مثلِ گوہر اس کی ہر ہر ایک چیز
ہم وطن سے پیار کرنے والے اور اس کے حریز
جان اس کی خاطر اپنی تک لٹانا چاہیے
اس طرح سے جشنِ آزادی منانا چاہیے
حافظ حمزہ سلمانی








