آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفرید احمد

چشم سوئے لامکاں ہے

فرید احمد کی ایک اردو غزل

چشم سوئے لامکاں ہے
وہ درونِ جسم , جاں ہے

پردہءِ فہم و گماں ہے
یہ جو مَٹّی کا جہاں ہے

مسکنِ اصنام ٹھہرا
جو حرم تجھ میں نہاں ہے

یک دلِ حسرت زدہ، صد
حق پرستوں پر گراں ہے

شش جہات اور کچھ نہ پایا
اک صدائے کن فکاں ہے

منفعت دنیا کی بے جا
رائگاں فکرِ زیاں ہے

سر بسر بے اختیاری
کیا زمیں کیا آسماں ہے

زندگی بھٹکا مسافر
موت مردِ راہ داں ہے

جس کا ہر قطرہ ہے قلزم
تُو وہ بحرِ بیکراں ہے

عقل ہے ظلمت کی رہرو
عشق مہرِ ضوفشاں ہے

خامشی جب ہو تکلّم
گفتگو پھر رائگاں ہے

کیا فرید اپنی کہوں میں
ربط خود سے اب کہاں ہے

فرید احمد دیو

post bar salamurdu

فرید احمد

فرید احمد دیو - قلمی نام : فرید احمد - ڈالووالی سیالکوٹ پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button