اپنے آپ سے ملنے اک دن میں گھر سے نکلا
خیالوں میں اپنے گم ہوکر میں گھر سے نکلا
گھوم پھر کر بالآخر پہنچا میں اپنے ہی گھر
دستک دی دروازے پر تو میں ہی اندر سے نکلا
دل بھر آیا خوب رویا میں اپنے آپ سے مل کر
دل کا یہ غبار نہ جانے یارو کدھر سے نکلا
مل کر اپنے آپ سے مجھے کچھ ایسا لگا یارو
مل گیا وہ خزانہ جو ہو کسی سمندر سے نکلا
پاس بٹھایا تسلی دی اور کہا کہ اب بھلادو
ہر اس شخص کو جو تمہاری رہگزر سے نکلا
اپنے پرائے کی پہچان کتنی مشکل ہے یہاں پر
دل میں رکھا جسے وہی آستین کے اندر سے نکلا
رشتے ناطے دوستی یاری سب نبھا کر دیکھ لیئے
محبت و الفت کا یہ دعویٰ بس اگر مگر سے نکلا
یوں مل لیا کرو اپنے آپ سے تم بھی کبھی یوسف
محسوس ہوگا جیسے کسی مشکل ڈگر سے نکلا
محمد یوسف میاں برکاتی








