اردو نظمشعر و شاعریشہزاد نیّرؔ

اندر کی جنگ

شہزاد نیّرؔ کی ایک اردو نظم

اندر کی جنگ

زمینِ جسم میں درد وں کی بارودی سُرنگیں ہیں

کبھی گولی کی صورت غم اُترتا ہے جو سینے میں

تو ایسے ذہن کے اندر سے سنّاٹے گزرتے ہیں

محاذِ جنگ کو جیسے ہزاروں ٹینک جاتے ہوں

چلی آتی ہیں تنہائی کی فوجیں روندنے دل کو

دھنا دھن گرنے لگتے ہیں

اَلَم کے توپ خانے سے

اداسی کے کئی چنگھاڑتے گولے

اجڑتے دل کی دھرتی پر

کبھی جنگی جہازوں کی طرح آتے ہیں

ماضی کے حسیں قصّے

دکھوں کے بم، دھماکے کرنے لگتے ہیں

بدن میں پھٹنے لگتے ہیں

اچانک ایک زنّاٹے سے

مایوسی کا راکٹ آن گرتا ہے

زمین ِیاد جلتی ہے

دھواں آنکھوں تک آتا ہے

امیدوں کی جلی چیخیں نکلتی ہیں

فصیلِ جاں لرزتی ہے

تھکے ہاتھوں میں تھاما ضبط کا پرچم

زمیں پر گرنے لگتا ہے

جوابی کاروائی میں یہی کچھ اپنے بس میں ہے

بس اک یلغاراشکوں کی

شہزاد نیّرؔ

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button