اردو نظمڈاکٹر نجمہ کھوسہشعر و شاعری

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

ڈاکٹر نجمہ کھوسہ کی ایک نظم

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

نصیب والوں کے دل میں جب بھی یہ جاگتی ہے

تو پہلے نیندیں اُجاڑتی ہے

یہ جھومتی ہے، یہ ناچتی ہے

یہ پھیلتی ہے، یہ بولتی ہے

ہر ایک لمحہ ہر ایک وعدے کو تولتی ہے

یہ اپنے پیاروں کو مارتی ہے

صلیب ہوتی ہے یہ محبت

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

یہ پھیلتی ہے تو پیڑ بنتی ہے، چھاؤں کرتی، یہ روپ دیتی

یہ چھاؤں کر کے بھی دھوپ دیتی

کبھی کبھی تو بس آپ اپنی رقیب ہوتی ہے یہ محبت

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

لہو کی صورت رگوں میں دوڑے

یہ خواب بن کر نظر میں ٹھہرے

سحاب بن کر فلک سے برسے

اسے جو دریا میں ڈال آؤ تو اک سمندر کا روپ دھارے

کہیں جو صحرا میں گاڑ آؤ تو پھول بن کر دلوں میں مہکے

اسے جو دیوار میں بھی چُن دو تو ہر کلی میں ہو عکس اس کا

ہر اک گلی میں ہو رقص اس کا

حبیب ہوتی ہے یہ محبت

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے یہ محبت

ڈاکٹر نجمہ کھوسہ

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button