آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعری

ایسا تو یہاں کچھ بھی نہیں

نعیم سمیر کی ایک اردو غزل

ایسا تو یہاں کچھ بھی نہیں حد نظر تک
ہم کو تو پہنچنا تھا کسی خواب نگر تک

اب پاؤں نہیں راہ میں دل تھکنے لگا ہے
لیکن ہمیں چلنا تو ہے انجام سفر تک

ہم شور بھی سنتے ہیں سماعت سے بہت کم
آواز بھی جاتی ہے تو بس حد نظر تک

ممکن ہے میں اب صبر کا یہ پیڑ گرا دوں
جب ہاتھ پہنچتا ہی نہیں شاخ ثمر تک

ہم اپنے ہی موسم سے پرکھتے ہیں جہاں کو
ماحول کا لیتے ہی نہیں کوئی اثر تک

میں اپنے ہی اندر کی طرف چیخ رہا ہوں
اب دیکھیے جاتی ہے یہ آواز کدھر تک

نعیم سمیر

نعیم سمیر

نام: نعیم سمیر جائے پیدائش: کراچی ادبی منظر نامہ: 2006 مجموعہ: زیر طبع مصنف: اردو نصاب ( اول تا آٹھویں جماعت) سندھ اردو اکیڈمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button