اردو غزلیاتحفیظ جالندھریشعر و شاعری

زندگی کا لطف

حفیظ جالندھری کی ایک غزل

زندگی کا لطف بھی آ جائے گا

زندگانی ہے تو دیکھا جائے گا

جس طرح لکڑی کو کھا جاتا ہے گھن

رفتہ رفتہ غم مجھے کھا جائے گا

حشر کے دن میری چپ کا ماجرا

کچھ نہ کچھ تم سے بھی پوچھا جائے گا

مسکرا کر منہ چڑا کر گھور کر

جا رہے ہو خیر دیکھا جائے گا

کر دیا ہے تم نے دل کو مطمئن

دیکھ لینا سخت گھبرا جائے گا

حضرت دل کام سے جاؤں گا میں

دل لگی میں آپ کا کیا جائے گا

دوستوں کی بے وفائی پر حفیظؔ

صبر کرنا بھی مجھے آ جائے گا
حفیظ جالندھری​

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button