آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

بنگلہ دیش طیارہ سانحہ

ایک انسانیت سوز المیہ

پیر کے روز بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک ایسا دردناک سانحہ پیش آیا جس نے نہ صرف بنگلہ دیشی قوم کو، بلکہ پوری دنیا کو سوگوار کر دیا۔ فضائیہ کا ایک تربیتی طیارہ دورانِ پرواز بے قابو ہو کر ایک اسکول کی عمارت پر جا گرا، اور دیکھتے ہی دیکھتے علم کا گہوارہ راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ اب تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس المناک حادثے میں 31 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں 25 معصوم بچے بھی شامل ہیں، جن کی عمریں 12 برس سے بھی کم تھیں۔

ایک لمحہ جو شاید تربیت کے لیے منتخب کیا گیا تھا، ہمیشہ کے لیے درجنوں خاندانوں کی زندگیوں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑا۔ یہ بچے جو صبح اسکول اس امید سے آئے تھے کہ وہ کچھ نیا سیکھیں گے، وہ اپنی زندگی کی آخری سانسیں ایک ایسی قیامت میں لے گئے جس کی گونج تادیر سنائی دیتی رہے گی۔

یہ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس المناک واقعے نے صرف دل نہیں توڑے، بلکہ کئی بنیادی سوالات کو بھی جنم دیا ہے :

کیا طیارے کا راستہ شہری آبادی اور اسکول کے اتنے قریب ہونا چاہیے تھا؟
کیا فضائی تربیت کے دوران پرواز کے راستوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں؟
کیا طیارہ تکنیکی خرابی کا شکار تھا؟ اگر ہاں، تو کیا بروقت اس کی مرمت یا جانچ کی گئی تھی؟
ایمرجنسی لینڈنگ کے آپشنز کہاں تھے؟
اور سب سے اہم سوال: یہ سانحہ روکا کیوں نہ جا سکا؟

یہ وہ سوالات ہیں جو محض بنگلہ دیشی حکومت یا فضائیہ سے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے ضمیر سے پوچھے جانے چاہئیں، کیونکہ یہ سانحے سرحدوں کے محتاج نہیں۔ آج بنگلہ دیش رو رہا ہے، کل کوئی اور ملک بھی اسی آزمائش کا شکار ہو سکتا ہے اگر ہم نے اس واقعے سے سبق نہ سیکھا۔

پاکستانی قوم کی طرف سے اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے۔ ہمارا دل ان والدین کے ساتھ دھڑکتا ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو صبح مسکراتے ہوئے اسکول بھیجا تھا اور شام تک ان کے جنازے اٹھانے پر مجبور ہو گئے۔

یہ حادثہ ہم سب کے لیے ایک اجتماعی صدمہ ہے۔ بچے صرف کسی ایک قوم یا ملک کے نہیں ہوتے، وہ پوری انسانیت کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی حفاظت، ان کا تحفظ، اور ان کے خوابوں کی پاسداری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ہر وہ شخص جس نے یہ خبر سنی، جس نے وہ دلخراش تصاویر دیکھیں، وہ صرف رویا نہیں، بلکہ اپنے دل میں ایک ایسی اداسی لے کر سویا جو شاید کبھی ختم نہ ہو۔ اس سانحے نے ہمیں پھر سے یہ یاد دلایا کہ انسان کی سب سے قیمتی دولت اس کی زندگی ہے۔ اور خاص طور پر معصوم بچوں کی زندگی۔

فضائی تربیتی مشقیں پوری دنیا میں ہوتی ہیں، مگر ان کے لیے مخصوص اور غیر آباد علاقے مختص کیے جاتے ہیں تاکہ کسی شہری آبادی کو خطرہ نہ ہو۔ اگر بنگلہ دیش میں یہ پالیسی مکمل طور پر لاگو نہیں تھی تو یہ ایک انتہائی خطرناک غفلت ہے۔

اگر یہ حادثہ کسی تکنیکی خرابی کے سبب پیش آیا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا چیک اینڈ بیلنس کا نظام ناکام ہو چکا ہے؟ کیا ہر پرواز سے قبل طیارے کی مکمل جانچ کی جاتی ہے؟ کیا پائلٹ کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت دی گئی تھی؟

یہ سوال صرف جواب کے متقاضی نہیں، یہ آئندہ حادثات کو روکنے کا واحد ذریعہ ہیں۔ تحقیق، احتساب، اور پالیسی میں انقلابی تبدیلیاں ہی مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہیں۔

پاکستانی عوام، صحافی، اساتذہ، طلباء، والدین اور ہر انسان دوست شخص بنگلہ دیش کے اس قومی المیے پر غمگین ہے، اداس ہے، اور بنگلہ دیشی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ ان معصوم جانوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے اور بنگلہ دیشی حکومت کو حوصلہ دے کہ وہ اس حادثے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائے۔

یہ واقعہ ہمیں صرف رلانے کے لیے نہیں، جگانے کے لیے بھی آیا ہے۔ ہمیں اب بطور قوم، بطور ریاست، اور بطور انسان، یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ترقی، تربیت اور تجربہ کسی انسان کی جان سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتا۔

ایک بچے کی جان، صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں۔ پوری انسانیت کا نقصان ہے۔
خدا کرے کہ ہم جاگ جائیں، اس سے پہلے کہ اگلا سانحہ ہماری دہلیز پر ہو۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button