ابنِ انشاءاردو نظمشعر و شاعری

پایان فارم

ابن انشاء کی ایک اردو نظم

ہم لوگ تو ظلمت میں جینے کے بھی عادی ہیں
اس درد نے کیوں دل میں شمعیں سی جلا دی ہیں
اک یاد پہ آہوں کا طوفاں امڈتا ہوا آتا ہے
اک ذکر پہ اب دل کو تھا ما نہیں جا تا ہے
اک نام پہ آنکھوں میں آنسو چلے آتے ہیں
جی ہم کو جلاتا ہے ہم جی کو جلاتے ہیں
ہم لوگ تو مدت سے آوارہ و حیراں تھے
اس شخص کے گیسو کب اس طور پریشاں تھے
یہ شخص مگر اے دل پردیس سدھارے گا
یہ درد ہمیں جانے کس گھاٹ اتارے گا
عشق کا چکر ہے انشا کے ستاروں کو
ہاں جا کے مبارک دو پھر نجد میں یاروں کو

ابن انشاء

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button