اردو نظمشعر و شاعریشہزاد نیّرؔ

تین اور تین سو

شہزاد نیّرؔ کی ایک اردو نظم

تین اور تین سو

عورتیں

رقص کرتی ہوئی عورتیں

رات آنکھوں سے ہو کر گزرتی ہوئی

تیز سازوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے

دم بہ دم، خم بہ خم

محوِ نغمہ سماعت لرزتی ہوئی

گھومتے، جھومتے، زاویے، دائرے ، قوس بنتے بدن

رقص کے ایک اک بھاءو کا

دردِ تخلیق سہتی ہوئی عورتیں !

آدمی

تین جسموں کو تکتے ہوئے

تین سو زر بکف آدمی

ساری آنکھیں اُن آنکھوں میں ہیں

جو فقط زر کے منظر میں ہیں

رقص دو رُخ پہ چلنے لگا

تال بٹنے لگی

کوئی دل کے، کوئی زر کے ٹھیکے پہ تھا

ناچتے، مست ہوتے ہوئے آدمی!

منتظر عورتیں

رات آنکھوں سے ہو کر گزرتی ہوئی

ہجر بستر پہ پہلو بدلتے ہوئے

کربِ تنہائی سہتی ہوئی عورتیں

تین سو عورتیں !

شہزاد نیّرؔ

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button