- Advertisement -

مس مالا

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

Miss Maala

مس مالا

گانے لکھنے والا عظیم گوبند پوری جب اے بی سی پروڈکشنز میں ملازم ہوا تو اس نے فوراّ اپنے دوست میوزک ڈائریکٹر بھٹساوے کے متعلق سوچا جو مرہٹہ تھا اور عظیم کے ساتھ کئی فلموں میں کام کر چکا تھا۔ عظیم اس کی اہلیتوں کو جانتا تھا۔ سٹنٹ فلموں میں آدمی اپنے جوہر کیا دکھا سکتا ہے، بے چارہ گمنامی کے گوشے میں پڑا تھا۔

عظیم نے چنانچہ اپنے سیٹھ سے بات کی اور کچھ اس انداز میں کی کہ اس نے بھٹساوے کو بلایا اور اس کے ساتھ ایک فلم کا کنٹریکٹ تین ہزار روپوں میں کر لیا۔ کنٹریکیٹ پر دستخط کرتے ہی اسے پانچ سو روپے ملے جو اس نے اپنے قرض خواہوں کو ادا کر دیئے۔ عظیم گوبندپوری کا وہ بڑا شکر گزار تھا۔ چاہتا تھا کہ اس کی کوئی خدمت کرئے، مگر اس نے سوچا آدمی بے حد شریف ہے اور بے غرض —— کوئی بات نہیں، آئندہ مہینے سہی۔ کیونکہ ہر ماہ اسے پانچ سو روپے کنٹریکٹ کی رُو سے ملنے تھے۔ اس نے عظیم سے کچھ نہ کہا۔ دونوں اپنے اپنے کام میں مشغول تھے۔

عظیم نے دس گانے لکھے جن میں سے سیٹھ نے چار پسند کیے۔ بھٹساوے نے موسیقی کے لحاظ سے صرف دو۔ ان کی اس نے عظیم کے اشتراک سے دُھنیں تیار کیں جو بہت پسند کی گئیں۔

پندرہ بیس روز ریہرسلیں ہوتی رہیں۔ فلم کا پہلا گانا کورس تھا۔ اس کے لیے کم از کم دو گویا لڑکیاں درکار تھیں۔ پروڈکشن منیجر سے کہا گیا۔ مگر جب وہ انتظام نہ کر سکا تو بھٹساوے نے مس مالا کو بلایا جس کی اچھی آواز تھی۔ اس کے علاوہ وہ پانچ چھ اور لڑکیوں کو جانتی تھی جو سُر میں گا لیتی تھیں۔ مس مالا کھانڈیکر جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کولہاپور کی مرہٹہ تھی۔ دوسروں کے مقابلے میں اس کا اُردو تلفظ زیادہ صاف تھا۔ اس کو یہ زبان بولنے کا شوق تھا۔ عمر کی زیادہ بڑی نہیں تھی۔ لیکن اس کے چہرے کا ہر خدوخال اپنی جگہ پر پختہ، باتیں بھی اس انداز میں کرتی کہ معلوم ہوتا اچھی خاصی عمر کی ہے۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ سے باخبر ہے۔ اسٹودیو کے ہر کارکن کو بھائی جان کہتی اور ہر آنے جانے والے سے بہت جلد گھل مل جاتی تھی۔

اس کو جب بھٹساوے نے بلایا تو وہ بہت خوش ہوئی۔ اس کے ذمے یہ کام سپرد کیا گیا کہ وہ فوراّ کورس کے لیے دس گانے والی لڑکیاں مہیا کر دے۔ وہ دوسرے روز ہی بارہ لڑکیاں لے آئی۔ بھٹساوے نے ان کا ٹسٹ لیا۔ سات کام کی نکلیں۔ باقی رخصت کر دی گئیں۔ اس نے سوچا کہ چلو ٹھیک ہے، سات ہی کافی ہیں۔ جگتاپ ساونڈ ریکارڈسٹ سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا میں سب ٹھیک کر لوں گا۔ ایسی ریکارڈنگ کروں گا کہ لوگوں کو ایسا معلوم ہو گا کہ بیس لڑکیاں گا رہی ہیں۔

جگتاب اپنے فن کو سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس نے ریکارڈنگ کے لئے ساونڈ پروف کمرے کے بجائے سازندوں اور گانے والیوں کو ایک ایسے کمرے میں بٹھایا جس کی دیواریں سخت تھیں۔ جن پر ایسا کوئی غلاف نہیں چڑھا ہوا تھا کہ آواز دب جائے۔ فلم “ بے وفا “ کا مہورت اسی کورس سے ہوا۔ سینکڑوں آدمی آئے۔ ان میں بڑے بڑے فلمی سیٹھ اور ڈسٹری بیوٹر تھے۔ اے بی سی پروڈکشنز کے مالک نے بڑا اہتمام کیا ہوا تھا۔

پہلے گانے کی دو چار ریہرسلیں ہوئیں۔ مس مالاکھانڈیکر نے بھٹساوے کے ساتھ پورا تعاون کیا۔

سات لڑکیوں کو فرداّ فرداّ آگاہ کیا کہ خبردار رہیں اور کوئی نقص پیدا نہ ہونے دیں۔ بھٹساوے پہلی ہی ریہرسل سے مطمئن تھا لیکن اس نے مزید اطمینان کی خاطر چند اور ریہرسلیں کرائیں۔ اس کے بعد جگتاپ سے کہا کہ وہ اپنا اطمینان کر لے۔ اس نے جب ساؤنڈ ٹریک میں یہ کورس پہلی مرتبہ ہیڈفون لگا کر سنا تو اس نے خوش ہو کے بہت اونچا “ اوکے “ کہہ دیا۔ ہر ساز اور ہر آواز اپنے صحیح مقام پر تھی۔

مہمانوں کے لیے مائکروفون کا انتظام کر دیا تھا۔ ریکارڈنگ شروع ہوئی تو اسے اون کر دیا گیا۔ بھٹساوے کی آواز بھونپو سے نکلی “ سونگ نمبر ایک، ٹیک فرسٹ، ریڈی ون ٹو۔“ اور کورس شروع ہو گیا۔

بہت اچھی کمپوزیشن تھی۔ سات لڑکیوں میں سے کسی ایک نے بھی کہیں غلط سُر نہ لگایا۔ مہمان بہت محظوظ ہوئے۔ سیٹھ، جو موسیقی کیا ہوتی ہے اس سے بھی قطعاّ ناآشنا تھا، بہت خوش ہوا۔ اس لیے کہ سارے مہمان اس کورس کو تعریف کر رہے تھے۔ بھٹساوے نے سازندوں اور گانے والیوں کو شاباشیاں دیں۔ خاص طور پر اس نے مس مالا کا شکریہ ادا کیا جس نے اس کو اتنی جلدی گانے والیاں فراہم کر دیں۔ اس کے بعد وہ جگتاپ ساؤنڈ ریکارڈسٹ کے گلے مل رہا تھا۔ کہ اے بی سی پروڈکشنز کے مالک سیٹھ رنچھوڑ داس کا آدمی آیا کہ وہ اسے بلا رہے ہیں۔ عظیم گوبندپوری کو بھی۔

دونوں بھاگے، اسٹوڈیو کے اس سرے پر گئے جہاں محفل جمی تھی۔ سیٹھ صاحب نے سب مہمانوں کے سامنے ایک سو روپے کا سبز نوٹ انعام کے طور پر پہلے بھٹساوے کو دیا۔ پھر دوسرا عظیم گوبندپوری کو۔ وہ مختصر سا باغیچہ جس میں مہمان بیٹھے تھے، تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا۔

جب مہورت کی یہ محفل برخواست ہوئی تو بھٹساوے نے عظیم سے کہا، “ مال پانی ہے، چلو آؤٹ‌ ڈور چلیں۔“

عظیم اس کا مطلب نہ سمجھا، “ آؤٹ‌ ڈور کہاں؟“

بھٹساوے مسکرایا، “ مازے ملگے (میرے لڑکے) موز شوک (موج شوق) کرنے جائیں گے۔ سو روپیہ تمہارے پاس ہے، سو ہمارے پاس —— چلو۔“

عظیم سمجھ گیا۔ لیکن وہ اس کے موز شوک (موج شوق) سے ڈرتا تھا، اس کی بیوی تھی، دو چھوٹے بچے بھی۔ اس نے کبھی عیاشی نہیں کی تھی۔ مگر اس وقت وہ خوش تھا۔ اس نے اپنے دل سے کہا “ چلو رے —— دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔“

بھٹساوے نے فوراّ ٹیکسی منگوائی۔ دونوں اس میں بیٹھے اور گرانٹ روڈ پہنچے۔ عظیم نے پوچھا، “ ہم کہاں جا رہے ہیں، بھٹساوے؟“ وہ مسکرایا، “ اپنی موسی کے گھر۔“

اور جب وہ اپنی موسی کے گھر پہنچے تو مس مالاکھانڈیکر کا گھر تھا۔ وہ ان دونوں سے بڑے تپاک کے ساتھ ملی۔ انہیں اندر اپنے کمرے میں لے گئی۔ ہوٹل سے چائے منگوا کر پلائی۔ بھٹساوے نے اس سے چائے پینے کے بعد کہا، “ ہم موز شوک کے لیے نکلے ہیں۔ تمہارے پاس —— تم ہمارا کوئی بندوبست کرو۔“

مالا سمجھ گئی۔ وہ بھٹساوے کی احسان مند تھی۔ اس لیے اس نے فوراّ مرہٹی زبان میں کہا جس کا یہ مطلب تھا کہ میں ہر خدمت کے لیے تیار ہوں۔ دراصل بھٹساوے، عظیم کو خوش کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے کہ اس نے اس کو ملازمت دلوائی تھی۔ چنانچہ بھٹساوے نے مالا سے کہا کہ وہ ایک لڑکی مہیا کر دے۔

مس مالا نے اپنا میک اپ جلدی جلدی ٹھیک کیا اور تیار ہو گئی۔ سب ٹیکسی میں بیٹھے۔ پہلے مس مالا پلے بیک سنگر شانتا کرنا کرن کے گھر گئی۔ مگر وہ کسی اور کے ساتھ باہر جا چکی تھی۔ پھر وہ انسویا کے ہاں گئی مگر وہ اس قابل نہیں تھی کہ ان کے ساتھ مہم پر جا سکے۔

مس مالا کو بہت افسوس ہوا کہ اسے دو جگہ ناامیدی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس کو امید تھی کہ معاملہ ہو جائے گا۔ چنانچہ ٹیکسی گول پیٹھا کی طرف لپکی۔ وہاں کرشنا تھی۔ پندرہ سولہ برس کی گجراتی لڑکی۔ بڑی نرم و نازک، سُر میں‌ گاتی تھی۔ مالا اس کے گھر داخل ہوئی اور چند لمحات کے بعد اس کو ساتھ لیے باہر نکل آئی۔ بھٹساوے کو اس نے ہاتھ جوڑ کے نمسکار کیا اور عظیم کو تھی۔ مالا نے ٹھیٹ دلالوں کے انداز میں عظیم کو آنکھ ماری اور گویا خاموش زبان میں اس سے کہا، “ یہ آپ کے لیے ہے۔“

بھٹساوے نے اس پر نگاہوں ہی نگاہوں میں صاد کر دیا۔ کرشنا عظیم گوبندپوری کے پاس بیٹھ گئی۔ چونکہ اس کو مالا نے سب کچھ بتا دیا تھا، اس لیے وہ اس سے چہلیں کرنے لگی۔ عظیم لڑکیوں کا سا حجاب محسوس کر رہا تھا۔ بھٹساوے کو اس کی طبیعت کا علم تھا۔ اس لیے اس نے ٹیکسی ایک بار کے سامنے ٹھہرائی۔ صرف عظیم کو اپنے ساتھ اندر لے گیا۔

نغمہ نگار نے صرف ایک دو مرتبہ پی تھی۔ وہ بھی کاروباری سلسلے میں۔ یہ بھی کاروباری سلسلہ تھا۔ چنانچہ اس نے بھٹساوے کے اصرار پر دو پیگ رم کے پیئے اور اس کو نشہ ہو گیا۔ بھٹساوے نے ایک بوتل خرید کر اپنے ساتھ رکھ لی۔ اب وہ پھر ٹیکسی میں تھے۔

عظیم کو اس بات کا قطعاّ علم نہیں تھا کہ اس کا دوست بھٹساوے دو گلاس اور سوڈے کی بوتلیں ساتھ لے آیا ہے۔

عظیم کو بعد میں معلوم ہوا کہ بھٹساوے پلے بیک سنگر کرشنا کی ماں سے یہ کہہ آیا تھا کہ جو کورس دن میں لیا گیا تھا، اس کے جتنے ٹیک تھے، سب خراب نکلے ہیں اس لیے رات کو پھر ریکارڈنگ ہو گی۔ اس کی ماں ویسے کرشنا کو باہر جانے کی اجازت کبھی نہ دیتی مگر جب بھٹساوے نے کہا کہ اسے اور روپے ملیں گے تو اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ جلدی جاؤ اور فارغ ہو کر سیدھی یہاں آؤ، وہاں اسٹوڈیو میں نہ بیٹھی رہنا۔

ٹیکسی ورلی پہنچی یعنی ساحل سمندر کے پاس۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں عیش پرست کسی نہ کسی عورت کو بغل میں دبائے آیا کرتے۔ ایک پہاڑی سی تھی، معلوم نہیں مصنوعی یا قدرتی —— اس پر چڑھتے —— کافی وسیع مرتفع قسم کی جگہ تھی۔

اس میں لمبے فاصلوں پر بنچیں رکھی ہوئی تھیں جن پر صرف ایک ایک جوڑا بیٹھتا۔ سب کے درمیان ان لکھا سمجھوتہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کے معاملے میں مخل نہ ہوں۔ بھٹساوے نے جو عظیم کی دعوت کرنا چاہتا تھا، ورلی کی پہاڑی پر کرشنا کو اس کے سپرد کر دیا اور خود مالا کے ساتھ ٹہلتا ٹہلتا ایک جانب چلا گیا۔

عظیم اور بھٹساوے میں ڈیرھ سو گز کا فاصلہ ہو گا۔ عظیم، جس نے غیر عورت کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ محسوس کیا تھا، جب کرشنا کو اپنے ساتھ لگے دیکھا تو اس کا ایمان متزلزل ہو گیا۔ کرشنا ٹھیٹ مرہٹی لڑکی تھی، سانولی سلونی، بڑی مضبوط، شدید طور پر جوان اور اس میں وہ تمام دعوتیں تھیں جو پُرکشش کُھل کھیلنے والی میں ہو سکتی ہیں۔ عظیم چونکہ نشے میں تھا اس لیے وہ اپنی بیوی کو بھول گیا اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کرشنا کو تھوڑے عرصے کے لیے بیوی بنا لے۔

اس کے دماغ میں مختلف شرارتیں پیدا ہو رہی تھیں۔ کچھ رم کے باعث اور کچھ کرشنا کی قربت کی وجہ سے۔ عام طور پر وہ بہت سنجیدہ رہتا تھا۔ بڑا کم گو۔ لیکن اس وقت اس نے کرشنا کے گدگدی کی۔ اس کو کئی لطیفے اپنی ٹوٹی پھوٹی گجراتی میں سنائے۔ پھر جانے اسے کیا خیال آیا کہ زور سے بھٹساوے کو آواز دی اور کہا، “ پولیس آ رہی ہے۔ پولیس آ رہی ہے۔“

بھٹساوے مالا کے ساتھ آیا۔ عظیم کو موٹی سے گالی دی اور ہنسنے لگا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ عظیم نے اس سے مذاق کیا ہے۔ لیکن اس نے سوچا بہتر یہی ہے کسی ہوٹل میں چلیں جہاں پولیس کا خطرہ نہ ہو۔ چاروں اٹھ رہے تھے کہ پیلی پگڑی والا نمودار ہوا۔ اس نے ٹھیٹ سپاہیانہ انداز میں پوچھا، “ تم لوگ رات کے گیارہ بجے یہاں کیا کر رہے ہو؟ مالوم نہیں دس بجے کے پیچھو یہاں بیٹھنا ٹھیک نہیں ہے؟ کانون ہے۔“

عظیم نے سنتری سے کہا، “ جناب اپن فلم کا آدمی ہے۔“

“ یہ چھوکری؟“ اس نے کرشنا کی طرف دیکھا۔

“ یہ بھی فلم میں کام کرتی ہے۔ ہم لوگ کسی بُرے خیال سے یہاں نہیں آئے۔ یہاں پاس ہی اسٹوڈیو ہے، اس میں کام کرتے ہیں۔ تھک جاتے ہیں تو یہاں چلے آتے ہیں کہ تھوڑی سی تفریح ہو گی۔ بارہ بجے ہماری شوٹنگ پھر شروع ہونے والی ہے۔“

پیلی پگڑی والا مطمئن ہو گیا۔ پھر وہ بھٹساوے سے مخاطب ہوا، “ تم ادھر کیوں بیٹھا ہے؟“

بھٹساوے پہلے گھبرایا لیکن سنمبھل کر اس نے مالا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں‌ لیا اور سنتری سے کہا، “ یہ ہمارا وائف ہے۔ ہمارے ٹیکسی نیچے کھڑی ہے۔“

تھوڑی سی اور گفتگو ہوئی اور چاروں کی خلاصی ہو گئی۔ اس کے بعد انہوں نے ٹیکسی میں بیٹھ کر سوچا کہ کسی ہوٹل میں چلیں۔ عظیم کو ایسے ہوٹلوں کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا جہاں آدمی چند گھنٹوں کے لیے کسی غیر عورت کے ساتھ خلوت اختیار کر سکے۔ بھٹساوے نے بیکار اس سے مشورہ کیا۔ چنانچہ اس کو فوراّ ڈیوک یارڈ کا “سی ویو ہوٹل“ یاد آیا اور اس نے ٹیکسی والے سے کہا کہ وہاں چلو۔ سی ویو ہوٹل میں بھٹساوے نے دو کمرے لیے۔ ایک میں عظیم اور کرشنا چلے گئے۔ دوسرے میں بھٹساوے اور مس کھانڈیکر۔ کرشنا بدستور مجسم دعوت تھی۔ لیکن عظیم جس نے دو پیگ اور پی لیے تھے، فلسفی رنگ اختیار کر چکا تھا۔ اس نے کرشنا کو غور سے دیکھا اور سوچا کہ اتنی کم عمر لڑکی نے گناہ کا یہ بھیانک رستہ کیوں اختیار کیا۔ خون کی کمی کے باوجود اس میں جنس کی اتنی تپش کیوں ہے؟ کب تک یہ نرم و نازک لڑکی جو گوشت نہیں کھاتی، کب تک اپنا گوشت پوست بیچتی رہے گی۔ عظیم کو اس پر بڑا ترس آیا۔ چنانچہ اس نے واعظ بن کر اس سے کہنا شروع کیا، “ کرشنا معصیت کی زندگی سے کنارہ کش ہو جاؤ۔ خدا کے لیے اس راستے سے جس پر تم گامزن ہو، اپنے قدم ہٹا لو۔ یہ تمہیں ایسے مہیب غار میں لے جائے گا جہاں سے تم نکل نہ سکو گی۔ عصمت فروشی انسان کا بدترین فعل ہے۔ یہ رات اپنی زندگی کی روشن رات سمجھو۔ اس لیے کہ میں نے تمہیں نیک و بد سمجھا دیا ہے۔“ کرشنا نے اس کا جو مطلب سمجھا وہ یہ تھا کہ عظیم اس سے محبت کر رہا ہے۔ چنانچہ وہ اس کے ساتھ چمٹ گئی۔ اور عظیم اپنا گناہ و ثواب کا مسئلہ بھول گیا۔

بعد میں وہ بڑا نادم ہوا۔ کمرے سے باہر نکلا تو بھٹساوے برآمدے میں ٹہل رہا تھا۔ کچھ اس انداز سے جیسے بھڑوں کے پورے چھتے کے ڈنک اس کے جسم میں کُھبے ہوئے ہیں۔ عظیم کو دیکھ کر وہ رک گیا۔ مطمئن کرشنا کی طرف نگاہ ڈالی اور پیچ و تاب کھا کر عظیم سے کہا، “ وہ سالی چلی گئی۔“

عظیم جو اپنی ندامت میں ڈوبا ہوا تھا، چونکا، “ کون؟“

“ وہی – مالا۔“

“ کیوں؟“

بھٹساوے کے لہجے میں عجیب و غریب احتجاج تھا، “ ہم اس کو اتنا وقت چومتے رہے۔ جب بولا آؤ تو سالی کہنے لگی تم ہمارا بھائی ہے۔ ہم نے کسی سے شادی کر لی ہے۔“ اور باہر نکل گئی۔ کہ وہ سالا گھر میں آ گیا ہو گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو